پاکستان 5 قوموں کا عمرانی معاہدہ ہے، مرکزیت کے بجائے شراکت داری کو فروغ دیا جائے، متحد پشتون اور سرائیکی صوبے بنائے جائیں، خوشحال خان کاکڑ کا قومی اسمبلی میں پہلا خطاب

اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور نو منتخب رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں اپنے حلقے کے ووٹرز، سپورٹرز اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ پانچ بڑی قوموں کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے جس کی مضبوطی حقیقی وفاق، قومی اکائیوں کی آئینی خودمختاری اور وسائل پر مقامی لوگوں کے اختیار میں پنہاں ہے؛ انہوں نے 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی روشنی میں ایک ایسا پارلیمانی نظام تشکیل دینے کی تجویز دی جہاں فیڈریشن صرف دفاع، کرنسی، خارجہ پالیسی اور مواصلات تک محدود ہو جبکہ تمام محکمے خودمختار قومی وحدتوں کے پاس ہوں تاکہ صوبے طاقت کا اصل سرچشمہ بن سکیں؛ خوشحال خان کاکڑ نے پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے نئے ‘چارٹر آف ڈیموکریسی’ پر دستخط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جب تک حقیقی وفاق قائم نہیں ہوتا تب تک اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم کو فوری ختم کیا جائے؛ انہوں نے غیر فطری صوبوں کی جگہ ایک متحد پشتون صوبے (خیبر پختونخوا، اٹک، میانوالی اور جنوبی پشتونخوا پر مشتمل) اور علیحدہ سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا؛ اپنی تقریر میں انہوں نے پشتون وطن میں مسلط کردہ جنگوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست نے امریکہ کے کہنے پر دوسروں کی جنگیں لڑیں جس کے نتیجے میں لاکھوں خاندان تباہ ہوئے، علماء، طلبہ اور تاجروں سمیت ہر طبقہ فکر کا خون بہایا گیا اور کروڑوں لوگ بے گھر ہو کر دوسرے شہروں میں آباد ہونے پر مجبور ہوئے جہاں اب ان کے ساتھ نسلی تعصب اور پروفائلنگ کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
