نیشنل پارٹی کے خلاف مسلح گروہوں اور سرکار کا گٹھ جوڑ، ایک ہفتے میں 5 کارکنان کی شہادت پارلیمانی آواز خاموش کرانے کی سازش ہے، میر رحمت صالح بلوچ کی شدید مذمت


(ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پارٹی کارکنان، ہمدردوں اور رہنماؤں کے اہلِ خانہ کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں دراصل جمہوری سیاست کو کمزور کرنے اور پارلیمانی آواز کو خاموش کرانے کی ایک منظم اور خطرناک سازش ہیں؛ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچ قوم کے حقوق پر اپنے جراتمندانہ مؤقف کی وجہ سے نشانے پر ہے اور اس کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہے، جہاں ایک طرف سرکار الیکشن میں راستہ روکتی ہے تو دوسری جانب مسلح افراد خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں؛ رحمت صالح بلوچ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نیشنل پارٹی کے 5 کارکنان کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جن میں گیشکور کے سینئر رہنما ماسٹر حاصل خان کے فرزند فیصل بلوچ اور جھاؤ کے نوجوان رہنما صنور بلوچ شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل اکتوبر میں ان کے اپنے بھائی کو بھی شہید کیا گیا تھا؛ انہوں نے واضح کیا کہ طاقت، گولی اور تشدد کے ذریعے کسی نظریاتی قوت کو دبایا نہیں جا سکتا اور پارٹی اپنے شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی بلکہ عوامی جدوجہد کو مزید تیز کرے گی؛ انہوں نے ریاست کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان قاتلانہ حملوں کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، پسِ پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert