پسنی فش ہاربر کی طویل بندش حکومتی غفلت اور مجرمانہ پالیسی کا ثبوت ہے، مکران کے ہزاروں ماہی گیر معاشی طور پر مفلوج ہو گئے، میر رحمت صالح بلوچ کا شدید احتجاج

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے پسنی میں قائم فش ہاربر کے کئی برسوں سے غیر فعال ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال حکومتی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے؛ انہوں نے کہا کہ پسنی فش ہاربر کو مکران کے ہزاروں ماہی گیروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے، ماہی گیری کے شعبے کو منظم کرنے اور ساحلی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کے ترقی کے بڑے بڑے دعوؤں کے برعکس یہ اہم معاشی منصوبہ طویل عرصے سے غیر فعال پڑا ہے؛ رحمت صالح بلوچ نے واضح کیا کہ پسنی، گوادر اور مکران کے دیگر ساحلی علاقوں کے ماہی گیر پہلے ہی شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں فش ہاربر کی بندش نے ان کے خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے؛ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ساحلی وسائل جو بے پناہ معاشی امکانات رکھتے ہیں، انہیں موثر منصوبہ بندی کے تحت استعمال میں لایا جائے کیونکہ پسنی فش ہاربر کی مسلسل بندش حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے؛ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہاربر کے تکنیکی اور انتظامی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر کے اسے فوری فعال کیا جائے اور ماہی گیروں کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے، بصورتِ دیگر ساحلی عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی اور نیشنل پارٹی اس استحصال کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
