پاکستان کا عید کے موقع پر آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق عید الفطر کے موقع پر عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس حوالے سے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر عارضی طور پر روک دیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق آپریشن غضب للحق افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے خلاف ہے، اس میں وقفہ آج رات 12 بجے سے 24 مارچ رات 12 بجے تک ہوگا، سرحدپار سے کسی بھی حملے کی صورت میں آپریشن فوری دوبارہ شدت کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔

واضھ رہے کہ پاکستان نے 26 فروری 2026 کو افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا، اس دوران سکیورٹی فورسز نے دشمن کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب دیا۔
وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے 15 مارچ 2026 کو افغانستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے والی افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تازہ تفصیلات جاری کی تھیں۔
عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا تھا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت اب تک افغان طالبان رجیم کے 684 کارندے ہلاک اور 912 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا تھا کہ افغان طالبان کی اب تک 252 پوسٹیں تباہ اور 44 پر قبضہ کیا گیا، ان کے 229 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کر دی گئیں، افغانستان میں 73 مقامات پر فضائی کارروائیوں میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا تھا کہ پاک فوج نے 14 اور 15 مارچ کی شب دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغانستان کے صوبے قندھار میں دہشتگردوں کی ٹیکنیکل سپورٹ اور اسلحہ اسٹوریج تنصیبات تباہ کر دی، دہشتگردوں کے تکنیکی آلات رکھنے والی سرنگ بھی تباہ کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ چترال سیکٹر میں افغانستان کی بدینی پوسٹ پر دہشتگردوں کا جمپ آف پوائنٹ تباہ کر دیا، پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کرنے والے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، کارروائیوں میں کسی شہری آبادی یا سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

WhatsApp
Get Alert