آئین کی پامالی اور مینڈیٹ کی چوری ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، ہماری سرزمین کے وسائل پر قبضہ کرنے اور شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے عید کے تیسرے دن پشین کے سردار مصطفیٰ خان فٹبال گرائونڈ میں جلسہ سے خطاب کے موقع پر ریاست اور مقتدر حلقوں کو آئینی حدود میں رہنے کی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بنیاد 1940 کی اس قرارداد پر رکھی گئی تھی جس میں تمام اکائیوں کو برابری، خودمختاری اور انصاف کی ضمانت دی گئی تھی، مگر آج یہاں آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور عوام کے ووٹ کے تقدس کو پیروں تلے روند دیا گیا ہے؛ انہوں نے اپنے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ یہ ملک کسی ایک ادارے، جرنیل یا فرد کی جاگیر نہیں بلکہ اس کے 25 کروڑ عوام کا ہے، جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت بند نہیں کرے گی اور تمام ادارے اپنے آئینی فریم ورک کے پابند نہیں ہوں گے، ملک معاشی اور سیاسی بحرانوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا؛ محمود خان اچکزئی نے “فارم 47” کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے، میڈیا پر عائد غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں اور ملک میں فوری طور پر صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے حقیقی نمائندے ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشتون، بلوچ اور دیگر محکوم قومیں اس ملک میں صرف برابری اور وقار کی بنیاد پر رہنا چاہتی ہیں، اگر ہماری سرزمین کے وسائل پر قبضہ کرنے اور ہماری تاریخی و ثقافتی شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے؛ محمود خان اچکزئی نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور فضائی کارروائیاں پشتونوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے، ریاست کو اپنی “فرنٹ لائن اسٹیٹ” والی پالیسی ترک کر کے ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام اور امن پر مبنی تعلقات استوار کرنے ہوں گے؛ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئین کی سربلندی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے منظم ہو جائیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے زور پر عوام کو دبانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے؛ خطاب کے دوران شرکاء نے “آئین کی بالادستی” اور محمود خان اچکزئی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے جس سے پنڈال گونج اٹھا۔
