جو غیر ملکی صدر کو سلوٹ مارے وہ ہمارا وزیراعظم نہیں، بند کمروں کے فیصلوں سے بغاوت کرتے ہیں: سہیل آفریدی

بلوچستان اور پختونخوا کی نسل کشی بند کی جائے: پشین میں اپوزیشن اتحاد کے جلسے سے سہیل آفریدی کا دھواں دھار خطاب


کوئٹہ،پشین(قدرت روزنامہ)پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام پشین میں منعقدہ بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آج 23 مارچ 2026 ہے، 23 مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں گے وہاں ایک ملک بنے گا جہاں حقیقی جمہوریت، آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کی حکمرانی ہوگی، لیکن بدقسمتی سے ہم آج بھی غلام ہیں، پہلے انگلینڈ کے انگریزوں کے غلام تھے اور آج کسی اور کے غلام ہیں۔

انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمران پہلے انگریزوں کو سلوٹ مارتے تھے اور آج ہمارا جعلی وزیراعظم کسی دوسرے صدر کو سلوٹ مارتا ہے، جو وزیراعظم کسی دوسرے ملک کے صدر کو سلوٹ کرے وہ ہمارا وزیراعظم نہیں ہے، ہم اسے نہیں مانتے۔
سہیل آفریدی نے ملک بھر میں انتخابی مینڈیٹ پر ڈاکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ووٹ کسی اور کو دیا اور بیلٹ باکس سے نکلا کوئی اور، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق میں جعلی حکومتیں مسلط کی گئی ہیں، صرف خیبرپختونخوا کی حکومت عوامی طاقت سے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچوں کی اور پختونخوا میں پختونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور عوام کی چادر و چار دیواری کو پامال کیا جا رہا ہے، پورا ملک ڈوب رہا ہے لیکن حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں کیونکہ ان کا مفاد عوامی پیسوں کی چوری اور بیرون ملک فلیٹس خریدنے میں ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ اب عوام چپ نہیں بیٹھیں گے، ہم بند کمروں میں بننے والی ہر اس پالیسی سے بغاوت کریں گے جو عوامی مفاد میں نہیں ہوگی۔
سہیل آفریدی نے عمران خان کو واحد قومی لیڈر اور اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل میں ناحق قید ہیں، ہم ان کی رہائی اور حقیقی آزادی کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے اور آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

WhatsApp
Get Alert