جنگ کی تباہ کاریوں کے بیچ انسانیت ابھی زندہ ہے؟ ایرانی دکاندار کے ایک چھوٹے سے بورڈ نے پوری دنیا کو رلا دیا

تہران (ڈیلی قدرت) ایران میں جاری ہولناک جنگ اور بدترین معاشی بحران کے سیاہ بادلوں کے درمیان ایک مقامی سپر مارکیٹ نے ہمدردی اور قومی یکجہتی کی ایسی مثال قائم کر دی ہے جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے؛ دکاندار نے اپنی دکان کے باہر ایک سادہ سا ہاتھ سے لکھا ہوا بورڈ آویزاں کیا جس پر درج تھا کہ ”جتنی ضرورت ہو لے جائیں، جنگ کے بعد ادائیگی کر دیں“۔ حالیہ کشیدگی اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کی وجہ سے جہاں اشیائے خورونوش کی قلت نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، وہاں اس دکاندار کا یہ بے لوث اقدام ایران کی مشہور ’وال آف کائنڈنس‘ (نیکی کی دیوار) کی جدید اور عملی شکل بن کر سامنے آیا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین وقت میں بھی ایرانی عوام ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے تیار ہیں اور ان کا یہ جذبہ حکومتی سطح پر منائے جانے والے ’قومی اتحاد کے ہفتے‘ کی اصل روح کو سچ ثابت کر رہا ہے۔
