علاقائی سلامتی و امن کیلئے پاکستان کا بڑا سفارتی اقدام: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش؛ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے اہم گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں عالمی و علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اس اعلیٰ سطحی رابطے میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی پیشکش کر دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کے لیے “بامقصد مذاکرات” کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسے اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی امن کی خاطر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے ایک بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران رضامندی ظاہر کریں تو پاکستان ایک جامع تصفیے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی سہولت اور میزبانی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے خطے کو آگ اور خون کے کھیل سے نکالنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
اسی تناظر میں ایک اور بڑی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ اس اہم ترین رابطے کی تصدیق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی کر دی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی حساس نوعیت کی اور سفارتی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر میڈیا کے ذریعے مذاکرات یا تفصیلات عام نہیں کرے گا۔ ان اعلیٰ سطحی رابطوں نے عالمی سطح پر یہ تاثر قوی کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مرکزی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert