ایم کیو ایم کی وفاقی حکومت کو ‘آخری وارننگ، دلوں میں کشادگی پیدا کریں ورنہ سب کی بقا و سلامتی خطرے میں ہے: فاروق ستار

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے 28 ویں ترمیم فوری لانے کا مطالبہ، خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس


کراچی(قدرت روزنامہ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے رویے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘آخری وارننگ’ جاری کر دی ہے۔ کراچی میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے پاس ایک آئینی عہدہ بھی ان سے برداشت نہیں ہو رہا، جبکہ وہ خود آٹھ آٹھ عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور دلوں میں کشادگی پیدا کرے، بصورت دیگر سب کی بقا اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
فاروق ستار نے پاکستان کے استحکام کو کراچی کی ترقی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی و سیاسی بقا کا انحصار ایک بااختیار بلدیاتی نظام پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں فی الفور ایک موثر اور بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی میں مصنوعی اکثریت کے ذریعے عوامی اختیارات اور وسائل کی منتقلی کو روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے 28 ویں آئینی ترمیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوم اس ترمیم کے ذریعے خوشخبری کی منتظر ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ “آپ 28 ویں ترمیم لائیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے،” کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس سے عوام کو ان کے اصل حقوق مل سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے بھی اس موقع پر گفتگو کی اور کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں ایم کیو ایم کی جانب سے تجویز کردہ آئینی ترمیم کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنا ممکن نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب مزید لیت و لعل برداشت نہیں کریں گے اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert