پاکستان کی کامیاب ثالثی: اسرائیل نے ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو ہٹ لسٹ سے ہٹا دیا
امریکا کے ذریعے اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، اسلام آباد میں عالمی طاقتوں کے بڑے اجلاس کی تیاریاں، وٹکوف، کشنر اور جے ڈی وینس کی شرکت متوقع، روئٹرز اور ایکسیوس کا بڑا دعویٰ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے پاکستان ایک مرکزی اور فیصلہ کن ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ اور امریکی میڈیا کے مطابق، پاکستان کی درپردہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ‘ہٹ لسٹ’ سے نکالنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے روئٹرز کو انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس ان اہم ایرانی شخصیات کے ٹھکانے (Coordinates) موجود تھے اور وہ انہیں نشانہ بنانا چاہتا تھا، تاہم پاکستان نے واشنگٹن سے فوری رابطہ کر کے اس کارروائی کو رکوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ اگر مذاکرات کے لیے موجود اہم شخصیات کو ہی ختم کر دیا گیا تو پھر تصفیے کے لیے کوئی فریق باقی نہیں رہے گا، جس پر امریکہ نے مداخلت کرتے ہوئے اسرائیل کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔
اسلام آباد میں عالمی طاقتوں کا بڑا مشاورتی اجلاس
امریکی اخبار ‘ایکسیوس’ (Axios) کے مطابق، ثالثی کرنے والے ممالک رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم اجلاس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں تہران کی نمائندگی اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکہ کی جانب سے اسٹیون وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع ہے۔
وزیراعظم اور وزارتِ خارجہ کا موقف
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکہ اور ایران رضامند ہوں تو پاکستان اس تنازع کے جامع تصفیے کے لیے “بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات” کی سہولت فراہم کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔ دوسری جانب ترجمان دفترِ خارجہ نے میڈیا کو قیاس آرائیوں سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت کاری کے حساس عمل میں بعض معاملات کی رازداری ضروری ہوتی ہے، لہٰذا سرکاری اعلانات کا انتظار کیا جائے۔
برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ نے بھی پاکستان کے اس نئے عالمی کردار کی تصدیق کی ہے، جس کے مطابق پاکستان خود کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے والے “مرکزی ثالث” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں قیامِ امن کے حوالے سے ایک بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے۔
