سعودی عرب سمیت 6 ریاستوں کا ایران کے خلاف مشترکہ محاذ، خود مختاری پر حملے ناقابلِ قبول قرار

کویت، امارات، بحرین، قطر اور اردن کا اتحاد؛ ایرانی ڈرون و میزائل حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2817 کی خلاف ورزی پر ایران سے فوری 'غیر مشروط' جنگ بندی کا مطالبہ


ریاض (قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب سعودی عرب نے پانچ دیگر عرب ممالک کے ہمراہ ایران کے حالیہ حملوں کو اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دے دیا۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پراکسیز کے ذریعے کی جانے والی جارحیت فوری بند کرے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ حملے چاہے براہِ راست ایران نے کیے ہوں یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں (پراکسیز) کے ذریعے، یہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری اس تنازع میں ایران نے اسرائیل کے علاوہ ان چھ عرب ممالک کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جسے ایران نے “امریکی تنصیبات پر حملہ” قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کا دبنگ موقف
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبدالمحسن بن خثیلہ نے ایران کے اقدامات کو ‘بزدلانہ’ قرار دیا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ “کسی ایسے ملک کو نشانہ بنانا جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہے، ایک ناقابلِ قبول جارحیت ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اب خاموشی کا وقت گزر چکا ہے اور ایران کو روکنے کے لیے فوری ایکشن لینا ہوگا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد اور عراق کا تذکرہ
مشترکہ اعلامیے میں خاص طور پر عراق سے ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی گئی۔ عرب ممالک نے ایران کو سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2817 (2026) کی یاد دہانی کرائی، جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور دھمکیاں فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرے۔
ثالثی کی کوششیں اور امریکی تجاویز
یہ مشترکہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے 15 نکاتی فارمولا پیش کر رکھا ہے اور پاکستان، ترکیہ اور مصر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم، عرب ممالک کا کہنا ہے کہ کسی ثالث ملک کو نشانہ بنانا امن کی کوششوں سے غداری اور کشیدگی کم کرنے کی راہ میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔

WhatsApp
Get Alert