آبنائے ہرمز میں ایرانی ‘ناکہ بندی’: عالمی توانائی سپلائی مفلوج، تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ

پاسدارانِ انقلاب کا 'ٹول بوتھ' سسٹم فعال، فی جہاز 20 لاکھ ڈالر تک وصولی کا دعویٰ، 2000 بحری جہاز راستہ کھلنے کے منتظر، ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے صورتحال کو 'معاشی دہشت گردی' قرار دے دیا


دبئی/تہران(قدرت روزنامہ) عالمی معیشت اس وقت ایک سنگین خطرے سے دوچار ہے کیونکہ ایران نے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر اپنا سخت کنٹرول نافذ کرتے ہوئے ‘ٹول وصولی’ کا غیر رسمی نظام شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایرانی ‘ٹول بوتھ’ سسٹم: جہاز کیسے گزریں گے؟
برطانوی جریدے ‘لائڈز لسٹ’ کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک پیچیدہ نگرانی کا نظام قائم کیا ہے جس کے مراحل درج ذیل ہیں:
ثالثی و رابطہ: جہاز مالکان کو پہلے ایران سے منسلک مخصوص ثالثوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔
ڈیٹا کی فراہمی: کارگو، عملے کی تفصیلات اور منزل کا تمام ڈیٹا ایرانی حکام کو دیا جاتا ہے۔
تصدیقی کوڈ: ایرانی بحری کمان کی جانچ کے بعد ایک مخصوص ‘کلیئرنس کوڈ’ جاری کیا جاتا ہے۔
محفوظ راستہ (ایسکارٹ): منظوری ملنے پر ایرانی کشتیاں جہاز کو لراک جزیرے کے قریب سے مخصوص راستے کے ذریعے گزارتی ہیں۔
اہم انکشاف: عرب میڈیا کے مطابق، بعض جہازوں سے 20 لاکھ ڈالرز (تقریباً 56 کروڑ پاکستانی روپے) تک فیس وصول کی جا رہی ہے، جبکہ چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کے جہازوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ادائیگیوں کے لیے چینی کرنسی ‘یوآن’ کا استعمال بھی رپورٹ ہوا ہے۔
عالمی اثرات اور ردِعمل
آبنائے ہرمز کی چوڑائی محض 21 ناٹیکل میل ہونے کی وجہ سے ایران اسٹریٹجک فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت 2000 سے زائد جہاز گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں، جس سے سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو گئی ہے۔
معاشی دہشت گردی: ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے سربراہ سلطان الجابر نے اسے ‘معاشی دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا اثر صرف ایندھن پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور ادویات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔
قانی پوزیشن: اگرچہ بین الاقوامی قانون (UNCLOS) تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق دیتا ہے، مگر ایران نے اس معاہدے کی پارلیمانی منظوری نہیں دی ہے، جسے وہ اپنی حدود میں سیکیورٹی اقدامات کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
مستقبل کی صورتحال: عالمی کساد بازاری کا خطرہ
توانائی کے ماہرین اور ‘الجزیرہ’ کی رپورٹس کے مطابق، اگر یہ تعطل مزید چند ہفتے جاری رہا تو دنیا دہائیوں کے بدترین توانائی بحران اور عالمی کساد بازاری (Global Recession) کا شکار ہو سکتی ہے۔ شپنگ کمپنیاں اب افریقہ کے گرد طویل اور مہنگے راستے (Cape of Good Hope) اختیار کرنے پر غور کر رہی ہیں، جس سے مال برداری کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert