امریکا کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کیلئے روکنے کا اعلان، فیصلہ ایرانی درخواست پر کیا گیا: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن(قدرت روزنامہ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی انتہائی کشیدہ صورتحال کے دوران ایک اہم پیشرفت میں ایران کی توانائی تنصیبات پر متوقع حملوں کو 10 دن کے لیے روکنے کا حیران کن اعلان کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کیے گئے اپنے ایک تفصیلی بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ ایرانی توانائی پلانٹس کو نشانہ بنانے کی عسکری کارروائی اب پیر، 6 اپریل 2026 تک کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے اور ان کے بقول یہ اہم فیصلہ براہ راست ایرانی حکومت کی خصوصی درخواست پر کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تہران انتظامیہ کے ساتھ جاری پس پردہ مذاکرات مثبت اور تعمیری سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بعد ازاں معروف امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مقبول پروگرام ’دی فائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے ابتدائی طور پر حملوں میں 7 دن کی مہلت مانگی تھی، تاہم امریکی انتظامیہ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں 10 دن کا وقت دے دیا ہے۔ دوسری جانب اس دعوے کے بالکل برعکس معروف امریکی اخبار ’دی وال سٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنی توانائی تنصیبات پر حملوں میں کسی بھی قسم کے وقفے یا مہلت کی کوئی باضابطہ درخواست سرے سے کی ہی نہیں گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی امن منصوبے پر بھی تاحال کوئی حتمی یا باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق امریکی صدر ماضی میں بھی ایران کے حوالے سے اپنے بیانات اور اسٹریٹجک حکمت عملی میں مسلسل تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک لحاظ سے امریکا اور اس کے اتحادی پہلے ہی یہ جنگ جیت چکے ہیں، تاہم انہوں نے تہران کو سخت انتباہ بھی جاری کیا کہ اگر ایران نے مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے تو اسے امریکی افواج کی جانب سے مسلسل اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ڈیڈ لائن میں ردوبدل کر چکے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو انہوں نے کھلی دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے پورے توانائی کے نظام کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز انہوں نے مبینہ ’مثبت بات چیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید پانچ دن کی مہلت دی تھی، جبکہ جمعرات کا یہ حالیہ اعلان اسی سلسلے کی دوسری بڑی تاخیر قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس ہولناک جنگ کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل کی افواج نے رواں سال 28 فروری کو ایران پر مشترکہ اور اچانک حملہ کیا تھا۔

امریکی صدر کی طرف سے حملوں میں اس عارضی تعطل کا یہ حالیہ اعلان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ مسلسل ایران پر شدید سفارتی اور عسکری دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحال کرے، جو کہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مسلسل دباؤ اور رکاوٹوں نے عالمی معیشت کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی کا انحصار اسی واحد راستے پر ہے۔ تیل بردار تجارتی جہازوں کو لاحق شدید سکیورٹی خطرات کے باعث اس بین الاقوامی سمندری راستے پر آمدورفت تقریباً مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق یہ 10 روزہ وقفہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کا ایک نادر موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے اور یہ کسی نئی جامع سفارتی حکمت عملی کا پوشیدہ حصہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے بیانات میں پایا جانے والا واضح تضاد اس پوری صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
اس سنسنی خیز صورتحال کے دوران امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف براہ راست اور وسیع پیمانے پر زمینی کارروائی کے آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے ایک نئے اور ہولناک طوفان کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی ماہرین قانون نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت شہری تنصیبات، بالخصوص بجلی اور توانائی کے بنیادی نظام کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرم تصور ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی امریکی صدر کے ان منصوبوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ممکنہ جنگی جرم کی کھلی دھمکی‘ قرار دیا ہے۔ تاہم اس کے جواب میں عسکری تجزیہ کاروں کا استدلال ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں ’دوہری استعمال ہونے والی‘ (dual-use) تنصیبات، یعنی وہ انفراسٹرکچر جو بیک وقت فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، کو نشانہ بنانے کا اسٹریٹجک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس نے بین الاقوامی جنگی قوانین کی بحث کو نیا رخ دے دیا ہے۔
