امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کی منصوبہ بندی، خطرناک ترین 82ویں ایئربورن ڈویژن مشرق وسطیٰ میں تعینات


واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خبروں کے دوران امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی انتہائی تربیت یافتہ اور جنگی کارروائیوں کے لیے مشہور فورس ’82ویں ایئر بورن ڈویژن‘ کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی پیراشوٹ فورس ہے جو چند گھنٹوں کے نوٹس پر دنیا کے کسی بھی علاقے میں زمینی کارروائی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو چار ہفتے گزر چکے ہیں، ایک جانب جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ انتہائی اہم فوجی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکا ایران کے اہم اسٹریٹجک جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کے لیے فوجیں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ تہران پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کو کھلوایا جا سکے۔

امریکی فوج کی اعلیٰ ترین انفنٹری یونٹ کہلانے والی یہ ’گلوبل رسپانس فورس‘ ہنگامی صورتحال میں محض 18 گھنٹے کے نوٹس پر اپنے مکمل جنگی ساز و سامان کے ساتھ دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے۔ 18 سے 20 ہزار انتہائی تربیت یافتہ پیراٹروپرز پر مشتمل یہ مکمل اور خود مختار فوج میدانِ جنگ میں کسی دوسری فورس کی محتاج نہیں ہوتی اور اس کے پاس اپنے لڑاکا فوجی، جاسوس، جنگی انجینئرز، بلیک ہاک اور چِنوک ہیلی کاپٹرز کا مکمل ایوی ایشن بریگیڈ موجود ہوتا ہے۔ یہ دستے فضا سے چھلانگ لگاتے ہوئے ہلکے مگر انتہائی تباہ کن اسلحے، ایم فور کاربائنز، ٹینک شکن ’جیولن‘ میزائلوں اور ہلکی توپوں سے لیس ہوتے ہیں اور زمین پر اترتے ہی دشمن کے اہم ٹھکانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ فورس دوسری جنگِ عظیم کے تاریخی ’ڈی ڈے‘ آپریشن، خلیجی جنگ اور کابل کے تاریخی انخلاء جیسے مشکل ترین مشنز میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت ترین ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا نے بھی عسکری ذرائع کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا جزائر پر قبضے کی کوشش کی گئی تو ایران آبنائے باب المندب کے حوالے سے انتہائی سخت قدم اٹھائے گا۔

WhatsApp
Get Alert