قاسم خان نے کسی بھی موقع پر یہ نہیں کہا کہ پاکستان سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس واپس لیا جائے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ قاسم خان نے کسی بھی موقع پر یہ نہیں کہا کہ پاکستان سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس واپس لیا جائے۔ ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء اور میڈیا کی جانب سے عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کے حوالے سے پھیلائے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
قاسم خان نے کسی بھی موقع پر یہ نہیں کہا کہ پاکستان سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس واپس لیا جائے۔ انہوں نے صرف پاکستان میں لاقانونیت، سیاسی انتقام، اور عمران خان سمیت دیگر اسیران کے ساتھ ہونے والی بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں، بالخصوص عدالتوں کی جانب سے انصاف کی عدم فراہمی کی نشاندہی کی ہے۔
اس وقت ملک میں عدلیہ عملاً مفلوج ہو چکی ہے، انصاف کا فقدان ہے، اور پارلیمنٹ بھی غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ تمام ادارے مل کر صرف پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہیں۔ اس سب کے باوجود پاکستان ہمارا ملک ہے، اور ہم نے ہمیشہ اس کی عزت، آبرو، خوشحالی اور ترقی کے لیے کام کیا ہے، جو کسی پر احسان نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان تحریک انصاف ہی وفاق کی حقیقی علامت ہے، جسے ملک بھر کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ ہونے والی تقریب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے “دوسرے 9 مئی” کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا بنیادی مقصد پاکستان کے ‘جی ایس پی پلس’ (GSP+) اسٹیٹس کو ختم کروانے کی سازش کرنا تھا، جس کے مرکزی کردار بانی پی ٹی آئی کے بیٹے قاسم خان اور غیر ملکی شہری زلفی بخاری ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق، اس پاکستان مخالف مہم میں کالعدم بی ایل اے (BLA) کی ذیلی تنظیم بی ایم ایم (BMM) کے رہنما بھی شامل تھے، جبکہ یہ ٹولہ یورپی یونین میں اسرائیلی لابی کے ساتھ مل کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
