علی امین گنڈاپور کی خفیہ ملاقاتیں لیک کرنے کا الزام، خیبر پختونخوا حکومت نے 80 سے زائد ملازمین کا بیک وقت تبادلہ کر دیا، ملازمین کے خاندان شدید پریشان

اسلام آباد/پشاور(قدرت روزنامہ)خیبر پختونخوا حکومت نے ایک غیر معمولی اور حیران کن اقدام اٹھاتے ہوئے اسلام آباد میں واقع ‘کے پی ہاؤس’ کا سارا عملہ تبدیل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ بڑے پیمانے پر تبادلے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے مبینہ رابطوں اور ان کی خفیہ ملاقاتوں کی معلومات لیک کرنے کے الزامات کے تحت کیے گئے ہیں۔
تبدیل کیے گئے عملے میں معمولی درجے کے ملازمین جیسے مالی، سویپر اور نائب قاصد سے لے کر کنٹرولر اور ایڈمنسٹریٹر طفیل تک، 80 سے زائد ملازمین شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام ملازمین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اتوار تک سول سیکریٹریٹ پشاور میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق، کے پی ہاؤس کے کئی ملازمین گزشتہ 20 سالوں سے اسلام آباد میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اور ان کے بچے بھی وفاقی دارالحکومت میں زیرِ تعلیم اور رہائش پذیر ہیں۔ اچانک کیے گئے ان تبادلوں سے ملازمین کے خاندانوں میں شدید بے چینی اور پریشانی پھیل گئی ہے، کیونکہ اس سے ان کے بچوں کی تعلیم اور خاندانی سیٹ اپ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ خیبر پختونخوا حکومت نے باضابطہ طور پر ان تبادلوں کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی، تاہم اندرونی ذرائع کا اصرار ہے کہ یہ کارروائی سیاسی وجوہات اور معلومات کی رازداری برقرار نہ رکھنے کے شبہ میں کی گئی ہے۔ اس اچانک انتظامی تبدیلی نے سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
