عمران خان اپنی بہنوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، موجودہ وزیراعلیٰ کے پی پرائمری اسکول بھی نہیں چلا سکتے: شیر افضل مروت کے تہلکہ خیز بیانات
علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کو آگے لائے بغیر پارٹی کا چلنا ناممکن، موجودہ وزیراعلیٰ اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں 10 قدم آگے ہیں: ڈی آئی خان میں میڈیا سے گفتگو

ڈیرہ اسماعیل خان (ڈیلی قدرت نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنی ہی پارٹی کی موجودہ قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک جیل میں صرف ان کی بہنوں کی رسائی ہے، اور درحقیقت انہی کی وجہ سے عمران خان اب تک جیل سے باہر نہیں آ سکے۔ ڈی آئی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی کی اندرونی خامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ موجودہ قیادت نہ تو خود کوئی کام کرتی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کو کام کرنے دیتی ہے۔
شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ہے جو ایک پرائمری اسکول چلانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود اپنی کابینہ تک مکمل نہیں کر سکے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں ہٹانے کے لیے پارٹی کے اندر ہی سے الزام تراشیاں کی گئیں۔
رابطوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایسا کون سا وزیراعلیٰ ہے جس کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہوتے؟ علی امین گنڈاپور پر تو صرف رابطوں کا الزام لگایا گیا، جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ کے پی تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کے معاملے میں ان سے 10 قدم آگے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ پارٹی کو بچانے اور آگے بڑھانے کے لیے علی امین گنڈاپور کو منا کر واپس لانا ہوگا اور جب تک بیرسٹر گوہر اور علی امین کو آگے نہیں لایا جاتا، پی ٹی آئی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
