بڑی خبر: ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے اہم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، عوام کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان
ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوگا، صوبوں کی شدید مخالفت پر فیصلہ، صدر مملکت اور وزیراعظم کا قومی سلامتی اور معاشی چیلنجز پر اعلیٰ سطح اجلاس، وفاقی و صوبائی قیادت کی شرکت

اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں منعقدہ ایک انتہائی اہم مشاورتی اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے توانائی بچت اقدامات کے تحت اسمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت کے بعد ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزراء، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز شریف، مراد علی شاہ، محمد سہیل آفریدی، سرفراز بگٹی سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سلامتی، معاشی صورتحال اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کیا ہے اور حکومت کفایت شعاری کے اقدامات، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد استعمال کو فوری روک کر بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کر رہی ہے۔ صدر مملکت نے واضح کیا کہ مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، انہوں نے ایندھن کے کم استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے عوامی آگاہی مہم چلانے اور مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود وافر ایندھن کے ذخائر موجود ہیں اور سپلائی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے ہونے والے حالیہ سفارتی رابطوں اور اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے حوالے سے بھی شرکاء کو بریفنگ دی، جبکہ تمام صوبائی حکومتوں نے مہنگائی کنٹرول کرنے اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
