امریکی فوج ایران میں کارروائیاں 2 سے 3 ہفتوں میں ختم کر دے گی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس
واپسی کسی معاہدے کے مرہونِ منت نہیں، تہران کو جوہری ہتھیاروں کے قابل نہیں چھوڑیں گے

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج ایران میں جاری فوجی کارروائیاں ‘بہت جلد’ ختم کر دے گی اور وہ اس حوالے سے آج رات (بدھ کی رات) 9 بجے قوم سے اہم خطاب بھی کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری فضائی مہم اور زمینی اہداف کی تباہی کا عمل مکمل ہونے میں مزید دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں، جس کے بعد امریکی افواج وہاں سے نکل جائیں گی۔ جب ان سے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ‘میرا کام صرف ایران کو چھوڑنا ہے، جیسے ہی ہم وہاں سے نکلیں گے، تیل کی قیمتیں خود بخود نیچے آ جائیں گی’۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائیوں کا خاتمہ ایران کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے تک پہنچنے پر منحصر نہیں ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ‘انہیں (ایران) مجھ سے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، جب ہمیں یقین ہو جائے گا کہ وہ طویل عرصے کے لیے پتھر کے زمانے میں چلے گئے ہیں اور جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہے، تو ہم وہاں سے چلے جائیں گے، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، یہ بات غیر متعلقہ ہے’۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کی رات 9 بجے قوم کو ایران جنگ کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر اعتماد میں لیں گے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی یہ جنگ اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ کے ابتدائی ایام میں ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کے باعث دنیا بھر میں تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
