کوئٹہ ٹریفک و لوکل ٹرانسپورٹ کیس؛ اپریل کے آخر تک سگنلز فعال اور دو ماہ میں الیکٹرک بسیں چلنے کی توقع ‘ بلوچستان ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع
رکشہ پرمٹ ریونیو میں ریکارڈ اضافہ، ایک کروڑ سے زائد کی وصولی، غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں جاری: رپورٹ 5 سال سے پرانی بسوں پر پابندی قانون کے مطابق ہے، شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دے سکتے: حکومت کا عدالت میں مؤقف چیف جسٹس کامران ملاخیل کی فیڈر روٹس کے تعین کے لیے سروے تیز کرنے کی ہدایت، الیکٹرک وہیکل منصوبے کے ٹینڈر مکمل

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 3 اپریل 2026: چیف جسٹس عدالت عدلیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کوئٹہ میں لوکل ٹرانسپورٹ اور شہری ٹریفک سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن کا ترمیم شدہ عنوان عدالت میں جمع کرایا گیا جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے آرڈر ون رول 10 سی پی سی کے تحت دائر سی ایم اے نمبر 664/2026 کا جواب اور دیگر متعلقہ دستاویزات عدالت میں جمع کرائیں جن کی نقول درخواست گزاروں کے وکیل ولی خان نصر ایڈووکیٹ کو فراہم کر دی گئیں۔ وکیل نے دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے مہلت طلب کی جبکہ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تمام جوابات مکمل ہو چکے ہیں اور حکومت دلائل کے لیے تیار ہے۔
عدالت کے روبرو بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو اور بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی جانب سے پیش رفت رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں رکشہ روٹ پرمٹس سے 50 لاکھ 38 ہزار روپے جبکہ 2025 میں ایک کروڑ 4 لاکھ 54 ہزار 800 روپے ریونیو وصول کیا گیا۔ اسی طرح 2024 کے دوران مجموعی طور پر 815 کمپیوٹرائزڈ رکشہ روٹ پرمٹس جاری کیے گئے جبکہ 2025 میں ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3300 تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر قانونی رکشوں اور ٹریفک خلاف ورزیوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ اکتوبر 2024 سے دسمبر 2024 تک 820 رکشے ضبط کیے گئے جن میں سے 622 تصدیق شدہ جبکہ 198 غیر قانونی تھے۔ سال 2025 میں 849 رکشے ضبط کیے گئے جبکہ یکم جنوری 2026 سے 26 مارچ 2026 تک مزید 117 رکشوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اسی طرح ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف بھی ہزاروں گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید آلات اور گاڑیاں خریدنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں فورک لفٹرز، جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم سے لیس گاڑیاں، پٹرولنگ بائیکس اور ایس ایس پی ٹریفک آفس کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ، جی پی او چوک، سیرینا چوک اور دیگر اہم مقامات پر ٹریفک سگنلز اور انفراسٹرکچر کی تنصیب کا عمل جاری ہے جو اپریل 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں الیکٹرک وہیکلز (ای وی) منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں تین روٹس پر 30 الیکٹرک گاڑیاں چلائی جائیں گی جبکہ حکومت چارجنگ انفراسٹرکچر، سولر سسٹم اور بیٹری سوئپنگ اسٹیشنز فراہم کرے گی۔ منصوبے کے لیے قومی سطح پر ٹینڈر جاری کیا گیا جس میں ایم/ایس تاج انٹرپرائزز اور ایم/ایس ٹریکٹیو سلوشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبے کو بہترین بولی دہندہ قرار دیا گیا ہے۔ ورک آرڈر جاری ہونے کے بعد 60 سے 75 دن کے اندر الیکٹرک گاڑیوں کے آپریشن شروع ہونے کی توقع ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل عبدالظاہر کاکڑ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کچلاک کے ٹرانسپورٹرز کی بسوں کو پرانی قرار دے کر شہر میں داخلے سے روک دیا گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع کی بسوں کو کوئٹہ میں داخلے کی اجازت ہے جو امتیازی سلوک ہے۔دوسری جانب کوئٹہ کے لوکل بس مالکان کے وکیل سلطان خالد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے مرکزی شاہراہوں پر گرین بس سروس تو شروع کر دی ہے مگر اندرونی روٹس پر لوکل بسوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک حکومت متبادل ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہیں کرتی، اندرون شہر بسوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ کی شرط کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری آر ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ موٹر وہیکل رولز 1969 کے تحت پانچ سال سے زیادہ پرانی پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت نہیں ہے اور اسی قانون کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاضلاعی بسوں کو صرف مقررہ اسٹاپس تک آنے کی اجازت ہے اور کسی بھی بس کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ منصوبے کی منظوری ہو چکی ہے اور عالمی خریداری کے عمل کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی تاہم آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر الیکٹرک ٹرانسپورٹ سروس شروع ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ فیڈر روٹس کے تعین کے لیے سروے کا عمل تیز کیا جائے اور جامع رپورٹ پیش کی جائے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ گرین بس، منی بس، کوسٹر یا ویگن کون سے روٹس پر چلائی جائے گی۔
