کوئٹہ میں مہنگائی نے خطرناک حد تک شدت اختیار کرلی، اشیائے خوردونوش، گوشت اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، عوام کی قوت خرید جواب دے گئی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی نے ایک بار پھر خطرناک حد تک شدت اختیار کر لی ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ شہر میں مہنگائی کے اس طوفان نے عام شہری کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ متوسط اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار نظر آ رہا ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں مرغی کا گوشت کی قیمت 680 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ چھوٹا گوشت (بکرے کا گوشت)2800 سے 3000 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح بڑا گوشت (گائے کا گوشت)بھی 1700 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے، جو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے گھی اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعلی کوالٹی گھی 660 روپے فی کلو، باسمتی چاول 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ دالوں کی قیمتیں بھی عوام کے لیے دردِ سر بن چکی ہیں، جن میں دال چنا 350 روپے، دال ماش 550 روپے، اور دال مسور 430 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔ سفید چنے 500 روپے فی کلو جبکہ چینی 180 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ مزید برآں شکر 350 روپے فی کلو اور اعلی معیار کا گڑ 400 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہیمصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرخ مرچ 1000 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جو عام گھریلو استعمال کے لیے انتہائی مہنگی ہو چکی ہے توانائی کے شعبے میں بھی عوام کو ریلیف نہ مل سکا، ایل پی جی سلنڈر گیس کی قیمت 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے۔ اسی طرح دودھ کی قیمت میں بھی 10 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد تازہ کھلا دودھ 210 روپے فی کلو جبکہ دہی 230 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے سبزیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پیاز اور ٹماٹر 100 روپے فی کلو، آلو 60 روپے فی کلو، مٹر 250 روپے فی کلو، سبز مرچ 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ مزید برآں بھنڈی 300 روپے، کدو 150 روپے، ٹینڈا 200 روپے، جبکہ ادرک اور لہسن کی قیمتیں 800 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔
