سعودی عرب کی 1,700کلومیٹر طویل شاہراہ جو مملکت کو شمال کی جانب یورپ سے جوڑتی ہے

ریاض(قدرت روزنامہ)سعودی عرب کا بین الاقوامی شمالی ہائی وے مملکت کے زمینی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ایک اہم شاہراہ ہے اور یورپ جانے کے لیے قدیم ترین عالمی راستہ بھی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ شاہراہ تقریباً 1,700 کلومیٹر طویل ہے اور کئی ذیلی راستوں سے منسلک ہے، جو مملکت کی اہم چھوٹی سڑکوں سے ملتی ہیں۔ یہ ہائی وے علاقائی اور بین الاقوامی رابطوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور افراد و اشیا کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
یہ راستہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کو اردن، شام، لبنان اور ترکی سے جوڑتا ہے، اور یوں مغرب کی سمت یورپ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس ہائی وے سے کئی شہروں، گورنریٹس، ٹاؤنز اور دیہات تک رسائی ممکن ہے۔ اسے تعمیر اور حفاظت کے اعلیٰ معیار کے مطابق بنایا گیا ہے اور یہ ’نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لوجسٹکس سٹریٹیجی‘ کے تحت ’روڈز سیکٹر پروگرام‘ کے اہداف میں بھی معاون ہے۔
تاریخی طور پر، اس راستے کی بنیاد سنہ 1950 میں رکھی گئی، جب اسے بجری اور مٹی سے بنے ٹریک کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سنہ 1967 میں اس کو باقاعدہ سمینٹ سے تعمیر کیا گیا، جس سے مملکت کے مشرقی اور مغربی حصے آپس میں جڑ گئے۔ تب سے یہ ہائی وے سعودی عرب میں ٹرانسپورٹ اور ترقی کا ایک اہم محور بن چکی ہے۔
اس سڑک پر سال بھر ٹریفک روانہ رہتی ہے، اور لاکھوں افراد روزانہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ سامان سے لدے مختلف سائز کے ٹرک بھی اسی شاہراہ سے گزرتے ہیں، جبکہ جی سی سی اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مال برداری کی اہم راہداری ہے۔
روڈز جنرل اتھارٹی سعودی عرب میں سڑکوں کے جال کو مسلسل جدید بنا رہی ہے۔ اس منصوبے میں سڑکوں کی حالت، ٹریفک کی حفاظت اور روانی کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہے۔
