سرکاری اسکولوں میں درسی کتب کی عدم فراہمی سنگین غفلت، تعلیم کو دانستہ کاروبار بنایا جا رہا ہے، وزیر تعلیم فوری نوٹس لیں، پشتونخواملی عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کا سرکاری اسکولوں میں درسی کتب کی عدم فراہمی ایک سنگین غفلت اور قابلِ افسوس امر ہے جس نے تعلیمی نظام کی کارکردگی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فروری میں محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام اضلاع میں بروقت درسی کتب کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے مگر عملی طور پر اسے یقینی نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً والدین کو مجبوراً بازار سے مہنگی کتابیں خریدنی پڑیں جو ان پر ایک اضافی مالی بوجھ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر کے وسطی علاقوں سمیت مضافاتی اسکولوں اور دیگر اضلاع میں بھی تاحال درسی کتب فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث درس و تدریس کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ اپریل کا وسط آ چکا ہے لیکن ابھی تک سلیبس کا باقاعدہ آغاز نہیں ہو سکا، جس سے سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کی تیاری شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے طلبہ، والدین اور اساتذہ سب ہی ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں تعلیم کا شعبہ محض ایک کاروبار بنتا جا رہا ہے اور والدین کو نجی اداروں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسکولوں میں فوری طور پر درسی کتب کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کر کے تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو بحال کیا جائے۔ پارٹی نے پرزور مطالبہ کیا کہ بالخصوص وزیرِ تعلیم اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ذمہ دار عناصر کو قرار واقعی سزا دیں کیونکہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایسی لاپرواہی ناقابلِ برداشت ہے۔ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور تعلیمی نظام کو مزید تباہی سے روکا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert