نوازشریف، شہباز اور زرداری سر جھکا سکتے ہیں، ہم سر نہیں جھکائیں گے، مولانا فضل الرحمان

مردان (قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جیسے میرے ملک کو آزادی کے باوجود غلام رکھا گیا وہاں نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری سر جھکا سکتے ہیں لیکن جمیعت علمائے اسلام سر نہیں جھکا سکتی، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔ مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان 25 کروڑ مسلمانوں کا وطن ہے اس کی عالمی سطح پر اہمیت ہے، ملک کو پوری اسلامی دنیا کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتا ہوں، قوم کے اندر خود اعتمادی اور ملک کی قدر و منزلت میں اضافہ دیکھنا چاہتا ہوں، ہم ملکی سرزمین پر مہمانوں کی عزت کرنا جانتے ہیں، آپ نے کہا باہر کے مہمان آرہے ہیں، احتجاج کا فیصلہ واپس لو، ہم نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا لیکن آپ نے عالمی قوتوں کے جبر کے ہاتھوں پاکستان کے عوام پر مہنگائی کا جو بم گرایا ہے وہ واپس لینا پڑے گا، آج مردان سے تحریک کا آغاز ہوچکا، تمہیں یہ فیصلے واپس لینے پڑیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف سرجھکا سکتا ہے، شہباز اور زرداری سر جھکا سکتےہیں لیکن جمیعت علماء اسلام سر نہیں جھکائے گی، حال ہی میں قرآن و سنت کےمنافی قانون سازی ہوئی، آپ کو اپنا راستہ بدلنا ہوگا، اس سے پہلے بھی پاکستان دولخت ہوچکا ہے، آج وہی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے دولخت ہونے کے ذمہ دار بھی تم ہوگے، اپنا مؤقف دہرانا چاہتے ہیں کہ دستور پاکستان اسلامی اصولوں کا تقاضا کرتا ہے، ہمیں آئین جو راستہ دکھاتا ہے اس کے مطابق چلنا چاہیے، حلف کی خلاف ورزی کرنا مسلمان کی علامت نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل ناجائزہ ریاست ہے اس کا خاتمہ امت مسلمہ کی آرزو ہے، یہ دہانیوں سے فلسطین پر ظلم ڈھا رہا ہے، یہ ظلم کرتے کرتے ایران تک پہنچ چکا ہے، اسرائیل کا ظلم اسلامی ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، ہم عرب سرزمین پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے، اسرائیل کا خاتمہ امت مسلمہ کی آرزو ہے، مودی اور یہودی اکھٹے ہوگئے ہیں، امت مسلمہ اور پاکستان کے عوام یہود و ہنود کے اس اتحاد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، مسلمان فاتح ہیں اور فاتح رہیں گے، بیت المقدس ایک دن مسلمانوں کا ہوگا اور انشاء اللہ وہاں عبادت کریں گے۔
