بلوچستان اسمبلی: گیس لوڈشیڈنگ، درسی کتب کی عدم فراہمی پراراکین کے شدید تحفظات

اسپیکر نے سوئی گیس، محکمہ تعلیم اور محکمہ ایکسائز سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے گیس لوڈشیڈنگ، تعلیمی اداروں میں درسی کتب کی عدم فراہمی، اور گوادر و خضدار میں شراب خانوں کے قیام جیسے اہم عوامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کرنے اور رپورٹس پیش کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر اسپیکر نے احکامات جاری کردیئے۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی شاہدہ روف نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل سوئی گیس کی جانب سے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کیا گیا، تاہم یہ شیڈول عوام کے لیے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئی گیس کمپنی اپنے جاری کردہ شیڈول پر بھی عملدرآمد نہیں کررہی، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پریشان تھے، اب گیس کی بندش نے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کو ایوان میں طلب کیا جائے۔اس موقع پر رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا اور مختلف شعبوں میں بدانتظامی عروج پر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گوادر میں شراب خانے مسلمان چلا رہے ہیں اور خریدار بھی مسلمان ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے محکمہ ایکسائز سے گوادر اور خضدار میں قائم شراب خانوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے تعلیمی صورتحال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ سے نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے لیکن تاحال سرکاری اسکولوں میں درسی کتب فراہم نہیں کی جاسکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کتب کی طباعت کب ہوتی ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا بچے اسکول صرف خالی ہاتھ جانے کے لیے جاتے ہیں۔ اس پر اسپیکر نے محکمہ تعلیم سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔اجلاس میں رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے کہا کہ سوئی گیس کمپنی کے حکام نے اسلام آباد میں بیٹھ کر ایسا شیڈولترتیب دیا ہے جو بلوچستان کے حالات کے مطابق نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی کو ایوان میں طلب کیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ایوان میں جوابدہ ہونے کی ہدایت کردی۔

WhatsApp
Get Alert