’ساری حدیں پار کر دیں‘، فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں، صارفین برہم


لاہور (قدرت روزنامہ)معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ فضا علی ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں جہاں صارفین کی جانب سے ان کے حالیہ اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو شو کے دوران فضا علی کے شوہر انہیں کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔ اس منظر کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست نشریات میں اس نوعیت کا عمل ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔ متعدد صارفین نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مناسب کارروائی کرے۔
ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے فضا علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹی وی پر ایک خاتون اینکر اور ان کے شوہر نے اپنی بیٹی کے سامنے جس طرز عمل اور چھچھور پن کا اظہار کیا وہ افسوسناک ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ ایسا طرزِ عمل نابالغ بچوں کے سامنے گھر میں دہرانا بھی غیر اخلاقی ہے کجا کہ اسے کروڑوں ناظرین کے سامنے ٹی وی پر دکھایا جائے۔ بڑوں کو اچھے اخلاق اور وضع داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بچے اور نوجوان نسل کچھ بہتر سیکھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر اخلاقی، بچکانہ اور چھچھوری حرکتوں سے ینگسٹرز کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ آج کل کی نوجوان نسل اخلاقی گراوٹ کی شکار کیوں ہو رہی ہے۔
صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کو آشا جی کے انتقال پر جیو ٹی وی کی طرف سے آن ائر کیے پیکج پر اتنا دکھ اور افسوس ہوا ہے کہ نوٹس لے کر بلا لیا ہے کہ اتنی جرات ہماری سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ باقی ہمارے ملک میں مارننگ شوز جو کمال کرتے رہیں ان پر انہیں نہ اعتراض ہے کوئی ایشو۔ یہ سب اپنے جو ہوئے۔


پرویز سندھیلا کہتے ہیں کہ یہ گند نہ روکا تو ہماری تہذیب کھا جائے گا، بیڈروم کی حرکتیں اگر ٹی وی پر لائیو ہوں گی تو ہمارے بچوں پر کیا اثر پڑے گا؟


مغیث علی نے فضا علی کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وائرل ہونے کے لیے کوئی حد نہیں رہی؟ معاشرے کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟


خرم اقبال نے کہا کہ ریٹنگ کیلئے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے، مانا کسی کی نجی زندگی کو ڈسکس کرنا مناسب نہیں لیکن یہ کچھ زیادہ ہو گیا۔ آپ گھر میں جو جی چاہے کریں، نیشنل ٹی وی پر ایسی حرکتیں بچوں پر کیا اثر ڈالیں گی۔


محمد عمیر نے کہا کہ کبھی ٹک ٹاکرز کے ساتھ ڈرامے، کبھی شوہر کے کپڑوں میں شو کی ریکارڈنگ اور اب شو کے دوران بیٹی کے سامنے شوہر کے کندھوں پر، ان کا کہنا تھا کہ وزیرداخلہ کا چینل نہ ہوتا تو اب تک کوئی نہ کوئی ایکشن لے چکا ہوتا۔


ایشال زہرا کہتی ہیں کہ مانا کہ محترمہ فضا علی کا نکاح ہو چکا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرے عام ٹی وی چینل پر بیٹھ کر چھچھورا پن دکھانا شروع کر دیں۔


اسماء شوکت کا کہنا تھا کہ پیمرا کا ادراہ کہیں بند تو نہیں ہو گیا، فضا علی کے شوہر نے کیمروں کے سامنے بیگم کو اُٹھا لیا، معاشرے کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟


ایک صارف نے فضا علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیلی ویژن کو گھر کا اکھاڑہ بنا لیا ہے بلکہ اپنا بیڈروم بنا لیا ہے۔


مقدس فاروق اعوان لکھتی ہیں کہ فضا علی نے تو ساری حدیں پار کر دیں، کیا یہ مواد ایک ٹی وی چینل پر دکھانے والا ہے وہ بھی بچی کے سامنے۔


تاحال فضا علی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تاہم یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert