اسلام آباد مذاکرات ؛ایران اور امریکہ میں کن باتوں پر اتفاق ہوچکا ہے؟حامد میر کے اہم انکشافات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار حامد میر نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پردہ اٹھادیا۔
’’جیو نیوز‘‘ کے مارننگ پروگرام میں میزبان ہماامیر شاہ نے سوال کیا کہ اب جو بیانات آ رہے ہیں،اس کا کیا مطلب ہے،اس سے کیا اخذ کیا جائے کہ بات کدھر جائے گی؟کے جواب میں سینئر صحافی حامد میر کاکہناتھا کہ ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی بات کی جارہی ہے،ایران نے خبردار کیا ہے کہ آپ اس آپشن کی طرف نہ آئیں ورنہ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی کاکہناتھا کہ ٹرمپ کے بیان سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ یہ سیز فائر ٹوٹ جائے گا،ان کاکہناتھا کہ دونوں وفود کے اسلام آباد سے روانہ ہونے سے پہلے جو خبر ہم تک پہنچی وہ خبر بہت احتیاط کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کی،وہ خبر یہی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بہت لمبے مذاکرات ہوئے ہیں ، یہ 1979کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی کا پہلا رابطہ تھا، جس میں امریکی نائب صدر، ایران کے سپیکر اور وزیر خارجہ شامل تھے،ان کے مذاکرات 21گھنٹے جاری رہے لیکن آخری گھنٹے میں ان میں کچھ باتوں پر اتفاق ہو گیا تھا، اس میں دونوں فریقین نے یہ فیصلہ کیاکہ ہم دوبارہ ملیں گے لیکن اس کا ہم اعلان نہیں کریں گے،حامد میر کاکہناتھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر بھی قائم ہیں اور دونوں فریقین کی ملاقات بھی ہوگی۔
سینئر صحافی کاکہناتھا کہ دونوں ملاقات کی بڑی وجہ تھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو مذاکرات کے دوران بار بار سائیڈ پر جاتے تھے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو کال کرتے تھے اور انہیں بریف کرتے تھے اور ان سے ہدایات لیتے تھے۔ 21گھنٹےجاری رہنے والے مذاکرات میں ڈونلڈٹرمپ بھی ان ڈائریکٹلی موجود تھے جو اپنے نائب صدر کے ذریعے مذاکرات میں شامل تھے۔
ان کاکہناتھا کہ ٹرمپ اپنے بیانات میں جن ایشوز کاذکر کررہے ہیں،وہ اصل ایشوز نہیں ہیں،ان ایشوز پر بہت مثبت پیشرفت ہوئی ہے،لیکن جن ایشوز پر مسئلہ ہےجو کسی بڑے بریک تھرو کے راستے میں رکاوٹ تھے ان کا ذکر کوئی بھی نہیں کررہا،ٹرمپ کے بیانات کے نتیجے کوئی ٹینشن پیدا ہوتی ہے تواس کے باوجود آنے والے دنوں میں ان کی ملاقات ضرور ہوگی۔
حامد میر نے کہاکہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے تو ہمارے تک خبریں بہت کم پہنچتی تھیں لیکن ایران اور امریکی میڈیا کے لوگوں کے اپنے ممالک کے نمائندوں سے رابطے تھے،جب ہم ان نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ پلیز یہ بتا دیں کہ آپ میں اتفاق کن باتوں پر ہوا ہے اور اختلاف کن باتوں پر ہے تو دونوں طرف کے میڈیا نمائندے مسکراتے تھے اورکہتے تھے مسٹر میر یہ سوال پوچھنا بہت آسان ہے مگر یہ ہمارے لئے اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔
سینئر صحافی نے کہاکہ ہو سکتا ہے میرے علم میں کچھ ایسی باتیں ہوں جن پر ان کا اتفاق ہوچکا ہے اگر میں یہاں پر کھل کر بتاؤں گا تو اس کی ایک بریکنگ نیوز بنے گی اس کو’’جیو نیوز‘‘ سے بین الاقوامی میڈیا اٹھائے گا پھر مذاکرات کرنے والوں پر دباؤ آئے گا کہ اچھا جی آپ کی بات ہو گئی ہے۔
میں صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ ٹرمپ نے اپنے دھمکی آمیز بیانات میں جو دو ایشوز بیان کئے ہیں،ایک یورینیم آفزودگی اور دوسراآبنائے ہرمز والا یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے،اس پر مذاکرات کرنے والو ں کی بڑی اچھی بات ہوئی ہے،ٹرمپ اپنے عوام کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یورینیم والے مسئلے پر ایرانی راضی نہیں تھے میں نے ان کو پریشرائز کرکے منا لیا ہے،ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی ان میں کافی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی وہ تو امریکہ اور اسرائیل بار بار ایران پر حملہ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے کام خراب ہو جاتا ہے۔
ان کاکہناتھا کہ امن مذاکرات ٹرمپ کی ضرورت تھی ،ٹرمپ کی خواہش اور منت سماجت پر امن مذاکرات ہوئے ہیں،شروع میں ایران ان مذاکرات میں شامل ہونے کو تیار نہیں تھے،ایرانی ٹیم بہت سی گرانٹی لے کر آئی تھی۔
میرے علم میں ایسی باتیں ہیں جن پر ایران امریکہ کا معاہدہ ہو چکا ہے لیکن میں بتانا نہیں چاہتا اگر بتا دیا تو مڈل ایسٹ یورپ کا میڈیا اس بات کو جیو سے اُٹھا لے گا تو بہت مسئلہ بن جائے گا ۔ حامد میر
بھینچود یہ والا کانفیڈنس ہونا چائیے بس pic.twitter.com/MCd16QUWfW
— Kippsam Malik (@KeepsamM) April 13, 2026
