بلوچستان میں پھر سیاسی ہلچل ؟ صدر آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کے وزراء اور اراکین اسمبلی ہنگامی طور پر اسلام آباد طلب، اہم فیصلے متوقع


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سید علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے تمام صوبائی وزراء اور اراکینِ اسمبلی کو ہنگامی طور پر اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ سید علی شاہ کے مطابق، اس وقت ایک درجن سے زائد صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔سید علی شاہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انہوں نے حکومتی ایوانوں، چیف منسٹر سیکرٹریٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے رابطے کیے تاکہ اس ہنگامی طلبی کا ایجنڈا معلوم کیا جا سکے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر کوئی ایجنڈا شیئر نہیں کیا گیا، تاہم پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی، اسفندیار خان کاکڑ، عبیداللہ گورگیج، بخت محمد کاکڑ، مینا مجید، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی، اور سردارزادہ فیصل جمالی سمیت دیگر اہم رہنما اسلام آباد میں موجود ہیں۔ سینئر صحافی کے مطابق انہوں نے صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک سے بارہا رابطے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے فون اٹینڈ نہیں کیا گیا۔ اس پیش رفت سے قبل گزشتہ روز صدر آصف زرداری کی سردار یار محمد رند سے ملاقات کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی تھیں، جس میں چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری اور نوابزادہ نعمت اللہ زہری بھی موجود تھے۔
سید علی شاہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ جب چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے ایک ذرائع سے وزیراعلیٰ کی اسلام آباد روانگی کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو پہلے تصدیق کی گئی کہ وہ جا رہے ہیں، لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان سے پسپائی اختیار کر لی۔ تاحال سرکاری طور پر یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اسلام آباد پہنچے ہیں یا نہیں۔ تاہم، قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج صدر مملکت اراکین کی شکایات اور تحفظات سنیں گے، اور کل ان کے ازالے کے لیے وزیراعلیٰ کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ سینئر تجزیہ نگار کے مطابق صدر آصف علی زرداری پہلے دن سے ہی وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے حوالے سے غیر مطمئن (Uncomfortable) ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کو گورننس اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ اراکین کا ماننا ہے کہ سندھ کی طرح بلوچستان میں انہیں مکمل اختیارات حاصل نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آئی جی پولیس، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) اور چیف سیکرٹری جیسے اہم عہدوں پر ان کی مرضی شامل ہو۔ سید علی شاہ نے واضح کیا کہ یہ تنازعہ کسی آئینی ترمیم کا نہیں، بلکہ خالصتاً گورننس، ڈیولپمنٹ اور ذاتی نوعیت کے اختلافات پر مبنی ہے۔رپورٹ میں اس بات کی بھی خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ حال ہی میں رکنِ اسمبلی علی حسن زہری کو ڈی سیٹ (De-seat) کیے جانے اور ان سے وزارت لیے جانے کے معاملے پر پریذیڈنٹ ہاؤس سخت نالاں ہے۔
وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور ڈھائی سالہ فارمولا
سید علی شاہ نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے گورننس کو بہتر بنانے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں، جن میں بینظیر اسکالرشپ پروگرام سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں جو ایک مشکل کام تھا۔ تاہم، موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سابق وزیراعلیٰ اور بی اے پی کے سابق صدر جام کمال خان کے آن ریکارڈ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ بلوچستان میں حکومت کے لیے ‘ڈھائی سالہ فارمولا’ موجود ہے۔
ان تمام حالات اور حالیہ سیاسی گہما گہمی کو دیکھتے ہوئے سید علی شاہ نے آخر میں یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا بلوچستان ایک مرتبہ پھر کسی نئے سیاسی تجربے کی جانب بڑھ رہا ہے؟

WhatsApp
Get Alert