بلوچستان میں بدامنی کی آگ ٹھنڈی نہ ہو سکی، 15 روز میں سیکیورٹی اہلکاروں و قبائلی عمائدین سمیت 31 افراد قتل
کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ اور مسلح حملوں کی لہر، شاہراہوں پر ڈکیتیاں اور حادثات بھی جان لیوا ثابت

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سنگین صورتحال اختیار کر گئی، گزشتہ چند روز کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ، مسلح حملوں، بم دھماکوں اور سنگین حادثات کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے 4 اہلکاروں اور متعدد قبائلی عمائدین سمیت مجموعی طور پر پچاس افراد جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کی رٹ کمزور پڑنے کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقوں کاسی روڈ، ایئرپورٹ روڈ اور قمبرانی روڈ پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں قبائلی رہنما حاجی محمد شریف زیرکاڑی سمیت کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ سریاب روڈ پر سیشن کورٹ کے سامنے دن دیہاڑے فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق ہوئے جس کی وجہ ابتدائی طور پر زمینی تنازع بتائی جا رہی ہے۔ ہزار گنجی سبزی منڈی میں بھی مسلح افراد کی فائرنگ سے دو سبزی فروش جان کی بازی ہار گئے۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر میں سیکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جیونی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے 3 اہلکار دورانِ ڈیوٹی شہید ہوئے جبکہ ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار فرمان بشیر بہرانی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ کچلاک بائی پاس پر ایف سی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کے دوران فورسز کی جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور ہلاک ہوئے۔
دیگر واقعات میں خاران، میختر اور گنداواہ سے 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ ڈیرہ مراد جمالی میں ٹریکٹر چھیننے کی کوشش کے دوران زمیندار میر الطاف حسین ڈاکوؤں کی فائرنگ کا شکار ہوئے جبکہ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں قبائلی شخصیات ملک شیر افضل زرکون اور میر مہک خان نوسانی کو ان کے گھروں کے باہر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
مذکورہ پرتشدد واقعات کے علاوہ مچھ بولان کی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے 3 محنت کش جاں بحق ہوئے جبکہ کوئٹہ میں تیز رفتاری کے باعث ٹریفک حادثے میں 3 افراد لقمہ اجل بنے۔
جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق بارکھان میں کالعدم تنظیم اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جاری تنازعات میں مقامی افراد درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں
