بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر صدر زرداری کی گہری نظر، استحکام اور ہم آہنگی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے: میر علی حسن زہری

اتحادیوں اور کارکنان کے تحفظات دور کرنے، ترقیاتی عمل تیز کرنے اور سیاسی استحکام یقینی بنانے کا عزم


کوئٹہ (قدرت روزنامہ ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سینئر رہنما ، پیپلزپارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان میر علی حسن زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی گہری نظر ہے اور وہ تمام معاملات کی خود نگرانی کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں پائیدار سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور ترقی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اپنے ایک تفصیلی اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان، رہنماؤں، عہدیداروں اور وزراء کے تمام تحفظات ترجیحی بنیادوں پر دور کیے جائیں گے، کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سے جمہوری اقدار، عوامی خدمت اور ترقی کی سیاست پر کاربند رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، پارٹی قیادت اس اعتماد کو ہرگز ٹھیس نہیں پہنچنے دے گی اور کارکنان کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
میر علی حسن زہری نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری اور میر عبدالقدوس بزنجو کو صدر مملکت کی جانب سے خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ اتحادی جماعتوں، پارٹی قیادت اور کارکنان کے تحفظات کو باہمی مشاورت کے ذریعے جلد از جلد حل کیا جا سکے اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری دورۂ چین کے بعد اہم اور فیصلہ کن اجلاسوں کی صدارت کریں گے جن میں بلوچستان سمیت ملک کی مجموعی سیاسی و سماجی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ان اجلاسوں میں ایسے فیصلے متوقع ہیں جو صوبے میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہیں ہموار کریں گے، جبکہ صدر مملکت کے متوقع دورۂ گوادر کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
میر علی حسن زہری نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی نہ صرف صدر مملکت کا وژن ہے بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بنیادی منشور کا حصہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام اپنی سرزمین کی ترقی اور روشن مستقبل کے لیے پُرعزم ہیں اور پیپلزپارٹی اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض پالیسیوں اور طرزِ عمل کے باعث پارٹی کے منتخب نمائندوں، وزراء اور کارکنان کو نظر انداز کیے جانے کا تاثر پیدا ہوا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے کارکنان کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ایسے کسی بھی رویے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جو پارٹی کے اجتماعی مفاد اور تنظیمی مضبوطی کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں آج صوبے میں بہتری کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور پیپلزپارٹی ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ پارٹی کے اندر مشاورت، باہمی احترام اور کارکنان کی مؤثر شمولیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا کیونکہ مضبوط اور بااعتماد کارکن ہی پارٹی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ دنوں میں ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے جن سے پارٹی کے اندر اتحاد، ہم آہنگی اور اعتماد کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان میں عوامی خدمت کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مزید تیز کرے گی تاکہ صوبے کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور مستحکم خطہ بنایا جا سکے اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم ہو۔

WhatsApp
Get Alert