یورپ کی طرف سے اسرائیل کو سفارتی دھچکا، پابندیوں کا امکان بڑھ گیا: برطانوی اخبار دی گارڈین

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)یورپ میں اسرائیل کے لیے گزشتہ ہفتہ خاصا مشکل ثابت ہوا، جہاں اسے ایک بڑا سفارتی دھچکا اس وقت لگا جب ہنگری میں اس کے قریبی اتحادی وزیر اعظم وکٹر اوربان اقتدار سے باہر ہو گئے، جبکہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدہ معطل کر دیا۔
یہ پیش رفتیں مقبوضہ مغربی کنارے میں متشدد یہودی آبادکاروں کے خلاف طویل عرصے سے زیرِ التوا یورپی پابندیوں کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، اور غزہ سمیت خطے میں جاری جنگوں کے تناظر میں یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کے لیے مزید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسرائیل یورپ تعلقات پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق ہنگری کی جانب سے ویٹو ہی وہ واحد رکاوٹ تھی جو ان پابندیوں کے نفاذ کو روک رہی تھی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئی ہنگرین حکومت کے قیام کے بعد یورپی یونین اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائے گی۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ نئی ہنگرین حکومت کے قیام کے بعد انتہا پسند آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کو دوبارہ زیر غور لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ، اسپین اور سلووینیا جیسے ممالک، جو فلسطینی موقف کے حامی سمجھے جاتے ہیں، یورپی وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں اسرائیل کے انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں پر بحث چاہتے ہیں۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو لکھے گئے خط میں غزہ کی ’ناقابل برداشت‘ صورتحال اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔
اگرچہ آبادکاروں پر پابندیاں زیادہ تر علامتی سمجھی جاتی ہیں، تاہم ان کی منظوری یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ اپنے وسیع تر تعلقات، حتیٰ کہ تجارتی معاہدوں کے بعض حصوں کی معطلی جیسے اقدامات پر بھی غور کرنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار، اہم سیاحتی مرکز اور تحقیق کے شعبے میں بڑی مالی معاونت فراہم کرنے والا فریق ہے، تاہم وہ اب تک اپنی معاشی طاقت کو اسرائیل پر مؤثر سیاسی دباؤ میں تبدیل نہیں کر سکا۔
برسلز میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل پر دباؤ بڑھانے اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کی بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے، اور اگر ابتدائی اقدامات کے باوجود صورتحال بہتر نہ ہوئی تو مزید سخت اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے 390 سے زائد سابق یورپی وزراء، سفارتکاروں اور اعلیٰ حکام نے بھی یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدے کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرے۔
اسی نوعیت کی ایک عوامی درخواست پر ایک ملین سے زائد دستخط ہو چکے ہیں، جسے تیزی سے مقبول ہونے والی مہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اس معاہدے کی معطلی کے لیے جرمنی یا اٹلی کی حمایت ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے لیے یورپی یونین کی’اہل اکثریت‘ درکار ہوتی ہے۔ گزشتہ برس غزہ کی صورتحال کے پیش نظر تجارتی پابندیوں کی ایک کوشش مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی تھی، اور بعد ازاں جنگ بندی کے بعد یہ معاملہ سرد پڑ گیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان ممکنہ مذاکرات بھی فوری یورپی اقدامات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، کیونکہ کئی یورپی ممالک نازک سفارتی عمل کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔
ادھر اٹلی کی جانب سے دفاعی تعاون معاہدے کی معطلی ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی پہلے اسرائیل کی قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتی تھیں، تاہم اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور فلسطین کے حق میں مضبوط رائے عامہ نے ان کی پالیسی کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب خارجہ پالیسی بھی اطالوی عوام کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے براہِ راست معاشی اور جغرافیائی اثرات یورپ تک پہنچ رہے ہیں۔
اگرچہ دفاعی معاہدے کی معطلی کو زیادہ تر علامتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یورپی سفارتکاروں کے مطابق یہ اسرائیل کے لیے واضح پیغام ہے۔
اسرائیل ماضی میں یورپی ممالک کے ساتھ اپنے قریبی دوطرفہ تعلقات کے ذریعے یورپی یونین کی سخت پالیسیوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم بدلتی سیاسی صورتحال میں یہ حکمت عملی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
ادھر یورپ میں یہ بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے کہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنا اور روس پر سخت پابندیاں عائد کرنا ’دوہرے معیار‘ کی عکاسی کرتا ہے، جو یورپی یونین کی عالمی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔
جرمنی میں بھی عوامی رائے حکومت کے مؤقف سے مختلف ہوتی جا رہی ہے، جہاں زیادہ تر شہری اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں، اگرچہ تاریخی ذمہ داریوں کے باعث جرمن حکومت اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے لیے یورپی تعلقات نہایت اہم ہیں، کیونکہ جہاں سیکیورٹی کے معاملات میں وہ امریکا پر انحصار کرتا ہے، وہیں معاشی طور پر یورپی یونین اس کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ تاہم اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔
حالیہ پیش رفتیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ یورپ اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، جہاں سیاسی دباؤ اور پالیسی تبدیلیاں مستقبل کی سمت کا تعین کریں گی۔
