بلوچستان سے عالمی افق تک، بڑھتے مواقع اور ولولہ بشیر کی کامیابی کی کہانی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی طالبہ ولولہ بشیر کی کامیابی کی کہانی بلوچستان سے متعلق روایتی ’محرومی کے بیانیے‘ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ ان کی زندگی کا سفر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ مواقع کی کمی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلکہ اصل مسئلہ اکثر وہ سوچ ہوتی ہے جو لڑکیوں کو اپنے خواب محدود رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
ولولہ بشیر نے کوئٹہ میں پرورش پائی جہاں انہیں مواقع کی مکمل کمی کا سامنا نہیں تھا، مگر ایک ایسا سماجی تاثر ضرور موجود تھا جو لڑکیوں کو قیادت اور بڑے خواب دیکھنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے اس سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے تعلیم اور قیادت کا راستہ اختیار کیا۔
اپنی جامعہ کے زمانے میں انہوں نے خواتین کی قیادت کو فروغ دینے، تقریبات کے انعقاد، پیشہ ور افراد کو شامل کرنے اور طالبات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ نوجوان نسل خود اپنے لیے راستے ہموار کر رہی ہے۔
گریجویشن مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں امریکا کی معروف جامعہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور وہ ڈگری مکمل ہونے کے ایک ماہ کے اندر واشنگٹن منتقل ہو گئیں۔
ان کی کامیابی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سطح کی تعلیم تک رسائی ممکن ہے، اور اصل رکاوٹ اکثر مواقع کی کمی نہیں بلکہ ذہنی بندشیں ہوتی ہیں۔ ولولہ بشیر اس نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں جو بلوچستان سے تعلق رکھنے کے باوجود عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔
یہ ابھرتی ہوئی نسل تعلیم، قیادت اور سماجی خدمات کے ذریعے محدود سوچ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ پورے معاشرے کی سوچ کو بدلنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert