بلوچستان کی ’پہلی شہید خاتون پولیس اہلکار‘، ماں جس نے یتیم بچوں کے لیے وردی پہنی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) ’والد کی شہادت کے بعد ہماری والدہ پر گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داریاں آ گئی تھیں۔ قبائلی معاشرہ ہونے کے باوجود انہوں نے گھر تک محدود رہنے کے بجائے فورس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تاکہ ہماری تعلیم اور گھر کا نظام چلتا رہے۔ وہ ہمارے لیے ماں بھی تھیں اور باپ بھی۔ اب ہم سے اس واحد سہارے کو بھی چھین لیا گیا۔‘
یہ الفاظ بلوچستان کے ضلع خضدار کے رہائشی سمیر بلوچ کے ہیں جن کی والدہ لیڈی پولیس کانسٹیبل ملک ناز اتوار کو دورانِ ڈیوٹی ایک حملے میں جان سے گئیں۔
پولیس کے مطابق ملک ناز بلوچستان کی تاریخ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والی پہلی خاتون پولیس اہلکار تھیں۔
بلوچستان پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ’صوبے میں اب تک 1142 پولیس افسران اور اہلکار وں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں قربان کیں تاہم ملک ناز پہلی خاتون اہلکار ہیں جن کی شہادت دورانِ ڈیوٹی پیش آئی۔‘
واقعہ کیسے پیش آیا؟
یہ واقعہ 19 اپریل کو خضدار کے علاقے باغبانہ، باجوئی کھنڈوزئی میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک ٹیم سولر پینلز کی چوری کے ایک مقدمے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے پر جا رہی تھی۔
ایس ایچ او باغبانہ بہاول خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ چونکہ چھاپہ ایک گھر پر مارا جانا تھا اور ایسی کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی ہے اس لیے ملک ناز بھی پولیس پارٹی کے ہمراہ تھیں۔
ان کے مطابق راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس ٹیم کو روک لیا۔ کچھ مسلح افراد سڑک پر موجود تھے جبکہ ان کے ساتھی قریبی پہاڑیوں پر پوزیشن لیے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی جس پر انہوں نے مزاحمت کی۔
اس کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی جس کے کے نتیجے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ جان سے گئے جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او ابراہیم شیخ اور دو دیگر پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے خضدار منتقل کیا گیا۔

اگرچہ خضدار اور اس کے دیہی علاقوں کو ماضی میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا رہا ہے اب تک کسی عسکریت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے اور ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔
انہوں نے بتایا کہ ملک ناز بلوچستان پولیس کی پہلی خاتون شہید اہلکار لیڈی کانسٹیبل ہیں جنہوں نےفرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔’ملک ناز نے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے بہادری، فرض شناسی اور ایثار کی نئی مثال قائم کی ہے
ایک خاندان، دو بار صدمہ
36 سالہ ملک ناز محمد حسنی کا تعلق خضدار کے علاقے صالح آباد سے تھا۔ وہ گزشتہ 13 برس سے لیویز اور بعد ازاں پولیس فورس میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ وہ سوگواروں میں ایک 18 سالہ بیٹا اور 16 اور 15 سالہ دو بیٹیاں چھوڑ گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر خضدارعبدالرزاق ساسولی کے مطابق ’ملک ناز کے شوہر عبدالغنی لیویز فورس کے اہلکار تھے جو 2011 میں خضدار کے علاقے چمروک میں فائرنگ کے ایک واقعے میں شہید ہوئے۔‘
لواحقین کے مطابق شوہر کی ہلاکت کے وقت ملک ناز کی عمر صرف 21 برس تھی اور ان پر پانچ سال سے کم عمر تین کمسن بچوں کی کفالت کی ذمہ داری آ گئی تھی۔
پولیس کے مطابق شوہر کی موت کے دو سال بعد 17 اپریل 2013 کو انہیں شہدا کوٹے پر لیویز فورس میں بطور سپاہی بھرتی کیا گیا۔
بعد ازاں لیویز اور پولیس کے انضمام کے بعد وہ بلوچستان پولیس کا حصہ بن گئیں اور پولیس تھانہ سٹی خضدار میں تعینات رہیں۔

لواحقین کے مطابق ملک ناز کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا اور وہ کچے مکان میں رہائش پذیر تھیں لیکن اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داریاں انہوں نے اکیلے نبھائی۔
ملک ناز کے دیور ماسٹر عبدالقادر کے مطابق ’بھائی کی شہادت کے بعد حکومت کی جانب سے ملنے والے معاوضے سے ہم نے بھابھی اور بچوں کے لیے ایک پکا کمرہ بنایا۔ بچوں کی تعلیم کے لیے کسی قسم کی سرکاری مدد فراہم نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق ’ہم اپنی حد تک مدد کرتے تھے لیکن زیادہ تر ذمہ داریاں ملک ناز خود ہی سنبھالتی تھیں۔ اب جب ان سے ماں بھی چھین لی گئی تو حکومت کو ان کم عمر اور یتیم بچوں کی تعلیم اور کفالت کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔‘
ملک ناز کے 18 سالہ بیٹے سمیر بلوچ کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہمارے والد کو شہید کیا گیا۔ جب والدہ نے ان کی جگہ سنبھالی تو انہیں بھی شہید کردیا گیا۔ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا گیا ہے۔ یہ دکھ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’والد کی شہادت کے بعد امی نے ہی ہمیں پالا۔ وہ ہمارے لیے ماں بھی تھیں اور باپ بھی۔ ہماری تعلیم پر انہوں نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہم پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینیئر بنیں اور لوگوں کی خدمت کریں۔‘
سمیر کے مطابق میری والدہ نہ صرف ایک بہادر پولیس اہلکار تھیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مثالی ماں بھی تھیں جنہوں نے رکاوٹوں کے باوجود گھر سے باہر نکل کر فورس جوائن کی ۔ وہ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام معاملات اور ہمارے ضروریات خود سنبھالتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے والدین کی قربانی پر فخر ہے جنہوں نے دوسروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں۔
سمیر کے مطابق اب گھر کی ذمہ داریاں ان پر آ گئی ہیں تاہم وہ حوصلہ نہیں ہاریں گے اور اپنی والدہ کے خواب پورے کریں گے۔
ملک ناز کے بچوں کی سرپرستی کی یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے پر افسوس اور خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک ناز بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس کانسٹیبل تھیں جنہوں نے دہشت گردوں سے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔پوری قوم پولیس فورس پر فخر کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملک ناز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور یہ صوبے کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ملک ناز کی قربانی اس لیے بھی مزید عظیم ہے کہ اس سے قبل ان کے شوہر عبدالغنی بھی وطن پر قربان ہو کر شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کر چکے ہیں۔ ایک ہی خاندان کی جانب سے دی جانے والی یہ بے مثال قربانی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے ۔‘
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان اس دکھ کی گھڑی میں شہیدہ کے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مکمل سرپرستی کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور نگہداشت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی ۔
بلوچستان پولیس کے مطابق شہداء کے لیے حکومت کی جانب سے ’شہداء پیکج‘ کے تحت مالی امداد، پلاٹس اور ان کے بچوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیمی وظائف دیئے جاتے ہیں۔ ملک ناز کے بچوں کو جلد یہ مراعات فراہم کی جائیں گی۔

WhatsApp
Get Alert