ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

یورپ (قدرت روزنامہ)ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافےکے بعد یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گاڑیوں کی تحقیق کے معروف برطانوی ادارے نیو آٹوموٹیو کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں یورپ کی اہم آٹو مارکیٹس میں بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں مہنگے پیٹرول کی وجہ سے لوگ تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف مارچ میں 15 یورپی ممالک میں 2 لاکھ 24 ہزار سے زائد نئی الیکٹرک گاڑیاں رجسٹر ہوئیں، یہ فروخت ان ممالک میں ہونے والی کُل نئی کاروں کی فروخت کا تقریباً 22 فیصد بنتی ہے۔
2026 کی پہلی سہ ماہی میں یورپی یونین کے ممالک میں 5 لاکھ سے زائد نئی الیکٹرک کاریں رجسٹر ہوئیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 33.5 فیصد زیادہ ہیں۔ یورپ کے پانچ بڑے ممالک جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی اور پولینڈ میں اسی عرصے کے دوران 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یورپ کی سب سے بڑی کار مارکیٹ جرمنی میں حکومتی مراعات متعارف ہونے کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ مارچ میں تقریباً ہر چار میں سے ایک نئی رجسٹر ہونے والی گاڑی الیکٹرک تھی اور سال کے آغاز سے اب تک 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اٹلی میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں سال کے آغاز سے اب تک 65 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مارچ میں ان کا مارکیٹ شیئر 8.6 فیصد ہو گیا جب کہ 2025 کے آخر میں یہ تقریباً 5 فیصد تھا۔
فرانس بھی بڑی مارکیٹس میں سرفہرست رہا، جہاں مارچ میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 28 فیصد تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتوں میں توانائی کے مسائل نے صارفین کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں جب توانائی کا تحفظ سیاسی ترجیحات میں سرفہرست ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی حقیقی استحکام فراہم کر رہی ہے۔
