بلوچستان میں میرٹ اور شفافیت کی شاندار بحالی: ‘نوکریاں بکنے کا تاریک دور ختم، روز دعا کرتا ہوں صوبے میں کسی کا حق نہ مارا جائے’، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
جان بوجھ کر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازشیں ناکام، اساتذہ کی بھرتیوں میں 99.99 فیصد میرٹ یقینی بنایا، اللہ ہمارے ساتھ ہے کوئی پروپیگنڈہ ہمارا راستہ نہیں روک سکتا، وزیراعلیٰ کا پرعزم خطاب

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اساتذہ کی بھرتیوں میں مبینہ کرپشن کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی اطلاعات سامنے آتی تھیں کہ خصوصاً خواتین اساتذہ کو سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے اپنے زیورات تک فروخت کرنے پڑتے تھے، جو ایک نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل تھا۔انہوں نے یہ بات وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب میں محکمہ تعلیم کے افسران، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو اپنی پہلی تقریر میں بلوچستان کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ سرکاری نوکریاں فروخت نہیں ہونے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر روز دفتر آنے سے پہلے درود شریف پڑھ کر یہ دعا کرتے ہیں اور اس وعدے کو یاد کرتے ہیں کہ حکومتی معاملات مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر چلیں، تاکہ صوبے میں کوئی نوکری نہ بکے۔

انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر بلوچستان کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا، اساتذہ کو صوبے سے نکالا گیا جس کی وجہ سے صوبہ کئی سال پیچھے چلاگیا تھا، مگر اب کوئی سازش یا پروپیگنڈہ ہمیں روک نہیں سکتا کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ محکمہ تعلیم، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام کی مشترکہ کوششوں سے اساتذہ کی بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنایا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق بلوچستان میں حالیہ اساتذہ بھرتیوں میں 99.99 فیصد میرٹ کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اہل اور قابل امیدواروں کو آگے آنے کا موقع مل سکے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی سے نہ صرف تعلیمی نظام بہتر ہوگا بلکہ نوجوانوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت آئندہ بھی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
