ہنگلاج شکتی پیٹھ کی سڑک مبینہ کرپشن کی نذر، سرکاری احکامات ردی کی ٹوکری میں


اوتھل (ڈیلی قدرت کوئٹہ) اقلیتی برادری کے مقدس ترین مذہبی مقام ہنگلاج شکتی پیٹھ کے اہم حصے “چندر گپت” تک زائرین کی رسائی کے لیئے تعمیر کی جانے والی بلیک ٹاپ سڑک ناقص معیار اور مبینہ کرپشن کی نذر ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق اقلیتی برادری کے مقدس ترین مذہبی مقام ہنگلاج شکتی پیٹھ کے اہم حصے “چندر گپت” تک زائرین کی رسائی کے لیئے تعمیر کی جانے والی بلیک ٹاپ سڑک ناقص معیار اور مبینہ کرپشن کی نذر ہو گئی چند ماہ قبل تعمیر کی گئی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر چھوٹی گاڑیوں کے چلنے کے قابل بھی نہیں رہی، جس کے باعث زائرین اور مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر میں تکنیکی اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ سڑک کے شولڈرز تاحال نامکمل ہیں جبکہ مناسب کمپیکشن کے بغیر ہی کام مکمل ظاہر کر دیا گیا۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار نے عوامی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے صرف مٹی ڈال کر اس پر “سیاہ ڈیزل نما مواد” چھڑک دیا تاکہ سڑک دور سے بلیک ٹاپ نظر آئے۔ذرائع کے مطابق اس سنگین بددیانتی کی اطلاع ڈپٹی کمشنر آفس لسبیلہ کو دی گئی تھی جس پر ڈی سی لسبیلہ نے متعلقہ افسران کو کام فوری طور پر درست کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم، بااثر افسران اور من پسند ٹھیکیدار نے ان احکامات کو خاطر میں لانے کے بجائے کام ادھورا چھوڑ دیا، جو کہ سرکاری احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہندو برادری اور دور دراز سے آنے والے زائرین نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سڑک نہ صرف کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ ایک مقدس مقام کی توہین کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر جام نواب جام کمال خان عالیانی سے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار اور متعلقہ محکمہ کے افسران کے خلاف فوری انکوائری کی جائے۔ سڑک کو معیاری میٹریل کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جائے۔سرکاری فنڈز میں خورد برد کرنے والوں سے رقم برآمد کی جائے۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو یہ اہم مذہبی و سیاحتی مقام تک رسائی مکمل طور پر منقطع ہو جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات پر ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert