ثناء بلوچ کا بیان سیاسی منافقت اور حقیقت سے فرار کی مثال ہے: شاہد رند

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بی این پی کے رہنما اور سابق سینیٹر ثناء بلوچ کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (X) پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تقریر پر دیے گئے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان حقیقت سے فرار اور سیاسی منافقت کی بدترین مثال ہے۔
شاہد رند نے کہا کہ ثناء بلوچ تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بجائے صرف بیانات تک محدود ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ان کے اپنے سیاسی حلقوں کے دور میں بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب میر غوث بخش بزنجو جیسے رہنماؤں نے تعلیمی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے بیرون ملک سے ماہر اساتذہ لانے کی کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف تعلیم کے دروازے کھولنے کی کوششیں ہو رہی تھیں جبکہ دوسری طرف نفرت، تقسیم اور لسانی سیاست کو فروغ دیا گیا، اور ثناء بلوچ آج بھی اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔
شاہد رند نے کہا کہ پنجاب سے نفرت کا بیانیہ بنا کر سیاست کرنا اور عوام کو گمراہ کرنا انہی عناصر کا وطیرہ رہا ہے جن کی نمائندگی آج ثناء بلوچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آج بھی صرف الزامات اور اشتعال انگیزی کی سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر میں کسی کا نام نہیں لیا، لیکن ثناء بلوچ کا فوری ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ نشانہ کہاں لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی کا کردار صاف ہوتا تو اس قدر بوکھلاہٹ نظر نہ آتی۔
شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے اور عملی اقدامات جاری ہیں، جبکہ بعض عناصر اب بھی نوجوانوں کو ترقی کے بجائے نفرت کی سیاست کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی دباؤ یا پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگی اور تعلیم و ترقی کا سفر ہر صورت جاری رہے گا۔
