رواں مالی سال 100 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہوگا، تبدیلی کے خواہشمند شوق پورا کرلیں، صدر زرداری نے اراکین اسمبلی سے میٹنگ سے پہلے اور بعد میں فون کیا ’ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کوئٹہ میں بلیک ٹاپ روڈ (پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک) کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ترقیاتی منصوبوں، صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، بجٹ کے استعمال اور حالیہ سیاسی افواہوں پر اہم اور دو ٹوک بیانات دیے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آئی جی پولیس کی رہائش گاہ پر حملے (جس میں ان کی اہلخانہ زخمی ہوئے تھے) کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کی گئی سڑک کا ایک ٹریک عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے اور جلد ٹو وے (Two-way) ٹریفک بھی بحال کر دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مقام پر سڑک کا دوسرا حصہ بھی آئندہ 70 روز کے اندر تعمیر کیا جائے گا۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) نے پہلا منصوبہ بھی 70 دن میں مکمل کیا ہے اور اگلا مرحلہ بھی اسی مدت میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے پر تقریباً 30 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
کوئٹہ میں اسٹریٹ کرائمز اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تشویش کا جواب دیتے ہوئے سرفراز بگٹی نے تسلیم کیا کہ صوبہ اس وقت ایک ‘کانفلیکٹ زون’ (Conflict Zone) میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ہمسایہ ممالک اور پراکسیز (Proxies) بلوچستان کو ہدف بنا رہی ہیں۔ تاہم، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت ہر شہری کی حفاظت کی پابند ہے اور سیکیورٹی کی نئی حکمت عملی کے تحت بہت جلد اسٹریٹ کرائمز اور امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری نظر آئے گی۔
ترقیاتی بجٹ کے لیپس (Lapse) ہونے اور فنڈز کی عدم دستیابی کی شکایات پر وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ رواں مالی سال کے 249 ارب روپے کے بجٹ کا ایک ایک پیسہ عوام پر خرچ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا، “میں بلوچستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا کہ چاچا عمر دین (عام آدمی) کے پیسے کا 40 فیصد لیپس ہو جائے۔ صوبے کے فنڈز کا 100 فیصد حصہ صرف اور صرف بلوچستان کے عوام پر خرچ کیا جائے گا۔”
صدر آصف علی زرداری سے ارکانِ اسمبلی اور وزراء کی حالیہ ملاقات (جس میں وزیراعلیٰ شریک نہیں تھے) کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ صدر مملکت نے انہیں ایک دن قبل ہی فون کر کے آگاہ کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا، “کچھ دوست میری غیر موجودگی میں صدر صاحب سے ملنا چاہتے تھے۔ صدر مملکت ریاست اور پارٹی کے سربراہ ہیں، ان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات کے بعد بھی صدر زرداری نے انہیں فون پر کچھ اہم ہدایات دیں جن پر من و عن عمل کیا جائے گا۔
حکومت کی تبدیلی یا ان ہاؤس تبدیلی کی افواہوں پر مسکراتے ہوئے اور انتہائی پراعتماد انداز میں وزیراعلیٰ نے مخالفین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا: “جس کا دل چاہتا ہے تبدیلی کروا لے، اپنا شوق پورا کر لے۔”

WhatsApp
Get Alert