غریدہ فاروقی نے مذاکرات مؤخر ہونے کے باوجود سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھادیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اینکرپرسن غریدہ فاروقی نے اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات مؤخر ہونے کے باوجود سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھادیا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ مذاکرات کی اب چونکہ کوئی حتمی تاریخ تو ہے نہیں جب تک کہ ایران جواب نہ دے، تو اب بھی اسلام آباد پنڈی کو بند رکھنے کا کیا جواز ہے؟ کاروبار بند، ٹرانسپورٹ بند، روزمرہ زندگی بند، لوگ گھروں میں یا تو قید ہو کر رہ گئے ہیں یا ہوٹلوں ہاسٹلز سے نکال دیے گئے ہیں۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اول تو امن مذاکرات یا کسی بھی رہنما کی آمد اپنے عوام کیلئے عذاب نہیں ہونی چاہئیے، اور اب چونکہ کچھ بھی حتمی نہیں تو محض مفروضے اور انتظار پر ملک کے دارالحکومت اور ساتھ پنڈی کو بھی بند رکھنا یہ کون سی عقلمندی ہے۔
اسی طرح صحافی عامر الیاس رانا نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً کاروبار بند کرا دیا گیا ہے، بلیو ایریا بند پڑا ہے، ناکوں پر تذلیل کا سامان کرنا پڑتا ہے، ایک ناکے سے چیک ہوں پھر دوسرا ناکہ آ جاتا ہے، اور فیض آباد پرتو ویسے ہی روزانہ ہر وقت کا کمال ہے، کوئی پچھے یہ ایم ٹیگ کیوں لگوائے؟ کس کی دیہاڑی بنی؟ ان ناکوں پر تین میں دو لائن اور چار میں تین لائن ایم ٹیگ کی ہونی چاہئیں کہ لوگ فوری نکل سکیں، جس ہر شک ہو اسے ضرور روکیں وزیراعظم صاحب یہ کون سے تیل کی بچت ہو رہی ہے، صرف محسن نقوی اور ان پولیس لوگوں کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert