سولر سسٹم کے لائسنس معاملے کا تعلق نیپرا سے ہے

لاہور (قدرت روزنامہ) ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سولر سسٹم کے لائسنس معاملے کا تعلق نیپرا سے ہے، نیپرا لائسنس لینے کے حوالے سے ریگولیشنز موجود ہیں جس کا تعلق ریگولیٹر سے ہے ، وفاقی حکومت کے احکامات کو لائسنس سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ تفصیلات کے مطابق سولر سسٹم لگوانے کیلئے لائسنس کی شرط عائد کرنے کے معاملے پر حکومتی ادارے کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے موقف ختیار کیا ہے کہ سولرنیٹ میٹرنگ کے حوالے سے نیپرا سے لائسنس کے بارے میں پاور ڈویژن یا وفاقی حکومت کے کردار کے حوالے سے غلظ رپورٹنگ کی گئی ہے۔ نیپرا لائسنس لینے کے حوالے سے ریگولیشنز موجود ہیں جس کا تعلق ریگولیٹر سے ہے اور بجلیکی تقسیم کار کمپنیاں ان ریگولیشنز پرعمل درآمد کراتی ہے۔
وفاقی حکومت کے احکامات کو لائسنس سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے اوراس حوالے سے وفاقی حکومت یا پاور ڈویژن سے کوئی مؤقف نہیں لیا گیا ۔ واضح رہے کہ وزارت پاور ڈویژن نے سولر سسٹم ترامیم کے تحت نیپرا لائسنس لازمی قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سولر سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نیپرا لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نیپرا ذرائع کے مطابق سسٹم کے مطابق بجلی کی پیداوار کے لیے صارفین کو لائسنس لینا ہو گا، پہلے 25 کلو واٹ تک صارفین کو تقسیم کار کمپنیاں لائسنس دے سکتی تھیں۔ ترامیم سے قبل 25 کلو واٹ سسٹم پر صارفین کو مفت لائسنس جاری ہوتا تھا۔ تاہم اب صارفین کو لوڈ کے مطابق فیس کی مد میں نیپرا کے نام کا پے آرڈر بھی ادا کرنا پڑے گا۔ صارفین کو 1 ہزار روپے فی کلوواٹ کے حساب سے اضافی ادائیگی کرنا ہو گی۔
ترامیم کے تحت صارفین کو نیٹ بلنگ پروجیکٹ پر کنکشن دیا جاسکے گا۔ تاہم ہائبرڈ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے سولر صارفین کو نیپرا لائسنس کے بنا سولر سسٹم لگانے کی اجازت ہو گی۔ اس پیش رفت پر حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سولر سسٹم کیلئے نیپرا لائسنس کا حصول لازمی قرار دینا دن دیہاڑے ڈکیتی کے مترادف ہے۔ حکومت لوگوں کو سکون سے جینے دے، زندگی اتنی مشکل مت بنائے۔
