چمن میں امن و امان کی صورتحال مکمل تباہ، انتظامیہ کی نااہلی کھل کر سامنے آ چکی ہے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا احتجاج
25 سرکاری اسکولوں کی بندش، جعلی ڈگری والے اساتذہ کی بھرمار، کیسکو کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ اور تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے خلاف شدید نعرے بازی

چمن (ڈیلی قدرت)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام ضلعی سیکرٹری حاجی جمال اچکزئی کی زیرِ صدارت شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں امن و امان کی بدترین صورتحال، ضلع چمن میں 25 سرکاری اسکولوں کی بندش، 30 اسکولز کھنڈرات میں تبدیل ،35% عیوضی ٹیچرز، مفت سرکاری کتابوں کی شدید کمی، کنٹریکٹ پر لگائے گئے اساتذہ کی ڈگریاں جعلی ،حالیہ کنٹریکٹ بھرتیوں میں سنگین اقرباء پروری کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی تاج روڈ پر اختتام پذیر ہوئی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی قائم مقام سیکرٹری حاجی جمال اچکزئی، ضلعی سینئر معاونین کریم خان شیر علی خان، ظریف خان، بنگ عثمانزئی ضلعی ا طلاعات سیکرٹری ناصر خان سنگر ،ضلعی ایگزیکٹو اراکین جمعہ خان اچکزئی، روز الدین رحمانی، عبدالشکور خان،، مولوی محمد حسن اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ چمن میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور انتظامیہ کی نااہلی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا عوام دشمن فیصلہ مکمل ناکامی سے دوچار ہوا لیویز کے پرانے نظام کو واپس بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہا کہ ایک طرف ڈیورنڈ لائن پر تجارتی سرگرمیاں گزشتہ کئی برسوں سے ماند ہیں ایسے میں دوسری طرف شہر اور گرد و نواح میں واپڈا کی غیر اعلانیہ اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے،کیسکو کی جانب سے شریف شہریوں پر ایف آئی آرز کا اندراج گرفتاریاں بجلی منقطع کرنا ناروا اقدامات کا تسلسل ہے جبکہ افغان مہاجرین کے نام پر باعزت شہریوں کی تذلیل اور بلاجواز ہراسانی ناقابلِ برداشت ہے ۔مقررین نے چمن میں تعلیمی پسماندگی اور زبوحالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں بند اسکولوں کی اور عیوضی ٹیچرز کی بھرمار ہے سیکرٹری تعلیم فوری ذمہ داران کیخلاف کارروائی کریں۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر عوامی مسائل حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاک افغان ڈیورنڈ لائن پر فوری طور پر آزادانہ تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائیں، آمد و رفت کیلئے شناختی کارڈ اور تذکرہ کی بنیاد پر اجازت دی جائے، تعلیمی نظام کو مکمل طور پر فعال کیا جائے اور چمن شہر سمیت بلوچستان میں لیویز فورس کو بحال کیا جائے اور بند چمن ٹرین سروس کو فی الفور بحال کیا جائے، بصورتِ دیگر سخت عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
