ریاست نے حقیقی قیادت کا راستہ روک کر بلوچستان کو آگ اور خون کی ہولی میں دھکیل دیا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
مصنوعی لیڈرشپ مسلط اور طاقت کے استعمال نے خلیج گہری کر دی، سیاسی عمل میں ریاستی مداخلت بند اور بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے، نیشنل پارٹی رہنماؤں کا خطاب

تربت (ڈیلی قدرت)نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی کے ہمراہ تحصیل تمپ اور آپسر کے کونسل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کی بنیادی جڑیں غلط ریاستی پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے حقیقی قوم پرست قیادت کا راستہ روکنے کے لیے مصنوعی لیڈرشپ کو مسلط کیا، جس نے جمہوری عمل کو سبوتاژ کر کے بلوچ سماج کو آگ اور خون کی ہولی میں دھکیل دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کا سلسلہ بند کر کے قومی مفاہمتی پالیسی کے تحت ایک بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہو سکیں۔رہنماں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نیشنل پارٹی سماج میں جاری ہر قسم کے تشدد، انتشار اور دہشت گردی کے خلاف ہے اور صرف پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل و وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور سیاسی عمل میں ریاستی مداخلت فوری بند ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے متنبہ کیا کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر رہا ہے، لہذا سیاسی اسپیس بحال کر کے سنجیدہ گفت و شنید کا راستہ اپنایا جائے۔ اجلاس سے ڈاکٹر نور زمان، جسٹس (ر) شکیل احمد، واجہ حمل بلوچ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیاسی و جمہوری موقف کی بھرپور تائید کی۔
