بلوچستان اسمبلی کی تاریخی عمارت گرا کر نئی بنانے کا حتمی فیصلہ، ٹینڈر 7 مئی کو کھلیں گے ، بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر ‘ سماعت منگل کو ہوگی
موجودہ عمارت ناقابل توسیع قرار، نئی عمارت کی تعمیر پر 5 ارب روپے لاگت کا تخمینہ، امان اللہ کنرانی نے عمارت گرانے کے خلاف درخواست دائر کر دی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) بلوچستان حکومت نے محکمہ مواصلات وتعمیرات کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے ناقابل توسیع ہونے کی رپورٹ ملنے کے بعد عمارت کو گراکر نئی بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ، عمارت گرانے کیلئے کئے جانے والا ٹینڈر7مئی کو اوپن کیا جائے گا ۔ محکمہ مواصلات وتعمیرات کے حکام کے مطابق محکمے کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھاکہ بلوچستان اسمبلی کی موجودہ عمارت قابل توسیع نہیں ہے جس پر وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی ،اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالخالق اچکزئی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کے بعد بلوچستان اسمبلی کی موجودہ عمارت گرا کر نئی بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ مواصلات وتعمیرات نے عمارت کو گرانے کیلئے ٹینڈر طلب کرلئے ہیں جو 7مئی کو کھولے جائیں گے ۔محکمہ مواصلات وتعمیرات کا ٹینڈر نوٹس اخبارات میں شائع کردیا گیا بلوچستان اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر پر ابتدائی تخمینہ پانچ ارب روپے لگایا گیا یہ رقم وفاقی حکومت نے فراہم کردی ہے ،صوبائی اسمبلی کی عمارت ایک سال کی مدت میں تعمیر کی جائے گی اس دوران صوبائی اسمبلی کے اجلاس کمیٹی بلڈنگ کے ہال میں منعقد ہوں گے ۔ بلوچستان اسمبلی کی تاریخی عمارت کو گرانے کیلئے حکومت بلوچستان کے مجوزہ ٹینڈ 7.5.26 کی روشنی میں سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان امان اللہ کنرانی نے صوبائی حکومت بلوچستان کے تاریخی عمارت کو گرانے کے خلاف اپنی زیرالتوء آئینی درخواست کی جلد سماعت کیلئے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ میری آئینی درخواست کی سماعت 7.5.26 سے قبل عمارت کو توڑے جانے کے ٹینڈر کھلنے سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کی جائے یہ درخواست منگل 28.4.26 کو بلوچستان ہائی کورٹ کے بنچ نمبر 1 میں مقرر ہوئی ہے
