انگریز دور سے زنجیروں میں جکڑے لنڈی کوتل کے اخروٹ کے درخت کی انوکھی داستان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)لنڈی کوتل میں ایک ایسا درخت موجود ہے جس سے جڑی کہانی آج بھی لوگوں کو حیران کر دیتی ہے۔
لنڈی کوتل کی تاریخی چھاؤنی میں موجود اخروٹ کا درخت بظاہر ایک عام سا درخت ہے مگر اس کی کہانی ماضی کے ایک ایسے واقعے سے جڑی ہے جو آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس درخت پر انتظامیہ کی جانب سے نصب بورڈ میں تحریر ہے ‘مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے’، برطانوی دور حکومت میں ایک شام نشے کی حالت میں موجود ایک فوجی افسر کو لگا کہ میں اپنی اصل جگہ سے ہل رہا ہوں ہے جس کے بعد اس نے مجھے گرفتار کرنے کا حکم دیا اور تب سے میں گرفتار ہوں۔
مقامی سیاح ابوذر آفریدی کے مطابق یہ واقعہ انگریز دور کی ان انوکھی داستانوں میں سے ایک ہے جو آج بھی علاقے کی تاریخ کا حصہ سمجھی جاتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ درخت آج بھی اسی حالت میں موجود ہے، گویا وقت وہیں رک گیا ہو۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعہ حقیقت سے زیادہ ایک تاریخی روایت کی شکل اختیار کر گیا ہے، اگرچہ یہ اخروٹ کا درخت اب پھل نہیں دیتا تاہم سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے ایک دلچسپ کشش ضرور رکھتا ہے۔
مقامی شہری ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس درخت نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے تو اسے اب آزاد کر دینا چاہیے۔
یہ درخت نہ صرف ماضی کی ایک انوکھی جھلک پیش کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ طاقت اور اختیار کے نشے میں انسان کس حد تک جا سکتا ہے اور تاریخ اپنے پیچھے کیسے عجیب و غریب کہانیاں چھوڑ جاتی ہے۔
