ایک لٹر پٹرول کی قیمت میں 129 روپے 72 پیسے اور ڈیزل پر 82 روپے 81 پیسے ٹیکسز شامل
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی کا بھاری تناسب بھی عوام کی جیبوں پر بوجھ بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے؛ رپورٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک میں ایک لٹر پٹرول کی قیمت میں 32 فیصد اور ایک لٹر ڈیزل کی قیمت میں 21 فیصد ٹیکس شامل ہونے کا انکشاف ہوگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے بعد حکومت کی جانب سے فی لٹر پٹرول اور ڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کے ہوشربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وزارتِ توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عوام کو فروخت کیے جانے والے ایندھن کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں پر مشتمل ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی مجموعی قیمت کا 32 فیصد حصہ مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہے، اس کا مطلب ہے کہ عوام فی لٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 129 روپے 72 پیسے صرف ٹیکس کی مد میں ادا کر رہے ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی 103 روپے 50 پیسے، کسٹم ڈیوٹی 23 روپے 72 پیسے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2 روپے 50 پیسے ہے، یوں عوام صرف ایک لٹر پٹرول پر مجموعی ٹیکسوں کا بوجھ 129 روپے 72 پیسے برداشت کر رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں ٹیکسوں کا تناسب 21 فیصد ہے، فی لٹر ڈیزل پر عوام مجموعی طور پر 82 روپے 81 پیسے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جن میں کسٹم ڈیوٹی 51 روپے 62 پیسے، پٹرولیم لیوی 28 روپے 69 پیسے، کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2 روپے 50 پیسے شامل ہے جس کے ساتھ فی لٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکس بوجھ 82 روپے 81 پیسے بنتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر 2 روپے 50 پیسے فی لٹر کے حساب سے “کلائمیٹ سپورٹ لیوی” بھی برقرار رکھی ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈز جمع کرنا بتایا جاتا ہے، وزارتِ توانائی کے ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی کا بھاری تناسب بھی عوامی جیبوں پر بوجھ بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
