بلوچستان محکمہ زراعت میں 20 کروڑ روپے خرچ، مگر کارکردگی صفر؟ آڈٹ رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے

تربت میں کھجوروں کے ریسرچ فارم ڈائریکٹوریٹ کے اخراجات میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے محکمہ زراعت کے تحت تربت میں قائم کھجوروں کے ریسرچ فارم ڈائریکٹوریٹ کے دفتری اخراجات میں مالی بے ضابطگیوں اور ناقص کارکردگی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
ذرائع حکومتی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 کے آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ ادارے میں ایسٹیبلشمنٹ اور آپریٹنگ اخراجات کی مد میں تقریبا 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، تاہم اتنی بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود فصلوں کی بہتری، تحقیق اور ترقی کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
ذرائع کے مطابق آڈٹ حکام نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ محکمہ زراعت کے اس ریسرچ ادارے کا بنیادی مقصد کھجور، آم، لیموں اور دیگر پھلوں کی جدید اقسام پر تحقیق، پیداوار میں اضافہ اور بیماریوں کے تدارک کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا تھا، مگر خطیر فنڈز خرچ ہونے کے باوجود اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی مثر منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریسرچ فارم میں 8 ریسرچ آفیسرز، تکنیکی عملہ اور جدید لیبارٹری کی سہولت موجود ہونے کے باوجود فصلوں کی بہتری یا نئی اقسام متعارف کرانے کے حوالے سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ آڈٹ حکام نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ادارے میں مطلوبہ افرادی قوت اور انفراسٹرکچر موجود تھا تو پھر ریسرچ سرگرمیوں میں پیش رفت کیوں نہ ہوسکی۔
یو این اے کو ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ کی انتظامی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث تربت اور مکران ڈویژن میں کھجوروں کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا، جبکہ آم اور لیموں جیسی اہم فصلوں پر بھی تحقیق نہ ہونے کے برابر رہی۔ زرعی ماہرین کے مطابق بلوچستان موسمیاتی لحاظ سے کئی پھلوں اور فصلوں کے لیے موزوں خطہ ہے، مگر تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کے باعث صوبہ اپنی زرعی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پارہا۔

WhatsApp
Get Alert