پشتونخوا وطن پر انتہا پسندی مسلط کرنے کی کوششیں، خوشحال کاکڑ نے حکمرانوں کی پالیسیوں کو قومی شناخت کیلئے نقصان دہ قرار دے دیا


مسلم باغ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پارٹی نہ صرف اپنے ملی و قومی اہداف کے حصول کے لیے بھرپور اور مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی بلکہ پشتون قومی ثقافت، اعلیٰ روایات، اقدار اور پشتون وطن کے تاریخی میلوں اور روایتی کھیلوں کو بھی بھرپور انداز میں زندہ و تابندہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کو پشتون قومی ثقافت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ہر قسم کی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ قوم کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے منزلِ مقصود حاصل کی جا سکے۔ یہ بات انہوں نے کان مہترزئی کے خوبصورت اور تاریخی مقام پر منعقدہ “ملی شہید سور گل کند میلہ” کی شاندار اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس عظیم الشان اور تاریخی میلے کا افتتاح پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر رہنما سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات عزیزی روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے ،مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان ، صوبای سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی اور پارٹی کے دیگر رھنماوں نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ اس موقع پر پارٹی کے دیگر مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ ایک طویل عرصے سے پشتونخوا وطن پر مصنوعی انتہا پسندی اور دہشت گردی مسلط کی گئی ہے، جبکہ ملک کے حکمرانوں کی جانب سے پشتون افغان ملت کے لباس، زبان، ثقافت اور طرزِ زندگی کو دانستہ طور پر دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پشتون افغان ملت کے قومی وجود، شناخت اور اعلیٰ انسانی، اسلامی اور پشتنی ثقافتی اقدار کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، جو کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پشتون افغان ملت اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی بھی انتہا پسندی، دہشت گردی یا فرقہ واریت سے وابستہ نہیں رہی، بلکہ یہ قوم ہمیشہ اعلیٰ انسانی روایات، باہمی احترام، برداشت اور جمہوری اقدار کی علمبردار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان اور تاریخی میلہ اسی حقیقت کا واضح اور عملی ثبوت ہے، جس کی بنیاد ایک قومی ہیرو (ملی شہید) نے دو دہائیوں قبل رکھی تھی اور اس تاریخی مقام کا انتخاب بھی خود کیا تھا۔ انہوں نے میلے میں ہر علاقے، ہر طبقے اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کی بھرپور اور والہانہ شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون قوم اپنی ثقافت، روایات اور قومی شناخت سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں روایتی کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت اور جوش و خروش اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی نسل اپنی ثقافتی جڑوں سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امر کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا کہ میلے کے تمام انتظامات عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کیے، جو کہ اجتماعی شعور، باہمی تعاون اور قومی یکجہتی کی ایک بہترین مثال ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتون افغان ملت شدید مشکلات، قومی محکومی، قومی وحدت کی کمزوری اور سیاسی، معاشی و ثقافتی اختیارات سے محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے نجات کے لیے منظم، مسلسل اور قربانیوں سے بھرپور سیاسی جدوجہد ناگزیر ہے۔ وسائل سے مالا مال سرزمین کے باوجود عوام کا غربت، بے روزگاری، بھوک اور کسمپرسی کا شکار ہونا ایک المیہ ہے، جس کا خاتمہ صرف ایک مضبوط اور منظم سیاسی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک مضبوط، نظریاتی اور عوامی حمایت یافتہ جماعت کی اشد ضرورت ہے، اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کے تمام باشعور اور غیور عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کو مزید مضبوط، فعال اور منظم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر شعبے میں خواتین کو ان کے جائز حقوق دینا اور ان کے کردار کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتون ماؤں اور بہنوں نے ہر دور میں نمایاں…

WhatsApp
Get Alert