بلوچستان صوبائی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ‘ گواہوں کے تحفظ کیلئے قانون میں ترامیم، حکومت نے 2016 کے ایکٹ کی خامیاں دور کرنے کو ناگزیر قرار دے دیا

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان صوبائی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا ایک اہم اجلاس ممبر کمیٹی خیر جان بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، اصغر علی ترین، علی مدد جتک، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی)بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور کمیٹی نے 2016 کے اصل ایکٹ کے نفاذ میں پیش آنے والی عملی اور انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے لیے قانون میں بہتری کو ناگزیر قرار دیا۔ ان مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد قانون کو موجودہ قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کی تعریف کو سات سال یا اس سے زائد قید کی سزا والے جرائم تک محدود کیا گیا ہے تاکہ وسائل کا رخ زیادہ خطرناک مقدمات کی جانب موڑا جا سکے۔اسی طرح گواہ کی تعریف میں وسعت لاتے ہوئے اب اس میں متاثرین اور مدعیان کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ قانون کو مزید جامع بنایا جا سکے، جبکہ گواہوں کو دھمکیوں سے بچانے کے لیے ان کی شناختی تفصیلات کی تبدیلی اور گواہی کے محفوظ اندراج کے لیے خصوصی سہولیات کی شقیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت وٹنس پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل اور مقامی سطح پر ذیلی یونٹس کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نظام کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ ان اصلاحات سے بلوچستان میں گواہوں کے تحفظ کا نظام مضبوط اور شفاف ہوگا، جس سے عوام کا نظامِ انصاف اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد مزید بڑھے گا۔
