پشتون علاقوں کے رزق کے دروازے بند کردیئے تو بھوک،غربت اور افلاس کے نتیجے میں لوگ بغاوت پر اُترآئیں گے ، عمران خان کو مائنس کرنے والے تاریخ میں بدنام ہوں گے، محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جو حملہ ہوا وہ کھلی جارحیت ہے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران پر دونوں حملے دوران مذاکرات ہوئے، مذاکرات بھی انہی باتوں پر ہورہے تھے جن کو بہانہ بنا کر ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کردیا۔ ڈنکے کی چوٹ پر ایمانداری سے یہ بات کہہ دینی چاہیے کہ ایران کے خلاف جارحیت ہوئی ہے اور ایران کا جو بھی نقصان ہوا ہے اُس کی ادائیگی ہونی چاہیے، افغانستان پر دومرتبہ برطانیہ نے حملہ کیا ناکام ہوئے،پھر روس آیا وہ ٹوٹ چکا،پھر 20سال امریکہ رہا نکل گیا ایسا نہ ہو کہ افغانستان اب ہمارا بھی قبرستان بنے۔ افغانستان میں اگر کسی بھی ملک کا شوق ہو تو آپ تین دن کے اندر کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں لیکن اس کا رکھنا مشکل ہوگا۔ وہ انگریز ایمپائیر کا قبرستان بنا روسی گھس آئے وہاں شکست اُٹھانی پڑی اگر ہمارا یہ شوق ہے یہ خطرناک شوق ہے ایسا نہ ہو کہ وہ ہمارا بھی قبرستان بن جائے۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا خطے میں بہت بُرا ہوا ہمیں امریکیوں سے اس لیے نفرت نہیں ہے کہ ان کا مذہب علیحدہ ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جو حملہ ہوا ہے وہ کھلی جارحیت ہے۔ مذاکرات ہورہے تھے اور دوسری طرف سمندروں پر امریکی جنگی بیرے ایران کی جانب بڑھ رہے تھے، ایران تو متوجہ تھا اور بیدار بھی لیکن کسی بھی ملک یا مسلمان ملک نے یہ نہیں کہا کہ یہ مذاکرات اور یہ جنگی بیڑے آئے ایران پر حملہ کیا۔ایران نے بڑی ہمت کی میں نے تو قومی اسمبلی میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران نے اسلامی دنیا کی لاج رکھ لی۔ اور ہمارے پاس بھی آسمان سے ایک موقع مل کہ ایران اور امریکا کے درمیان بات کرنے کا بھروسہ پاکستان پہ کیا گیا اور شاید اس لیے کیا گیا کہ امریکی قیادت ٹرمپ سمیت اور ایرانی قیادت کو یہ یقین تھا کہ امریکی قیادت ٹرمپ سمیت اور ایرانی قیادت کو یہ یقین تھا کہ ہمارے درمیان جو بھی پیغام رسائی ہوگی اُس میں گڑ بڑ نہیں ہوگی اور یہ اچھی بات ہے۔
محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنگ عظیم کے بعد یہ اس صدی کا سب سے بڑا واقعہ ہے کہ امریکن اور اسرائیلی ایک ملک پر حملہ آور ہوئے اور پھر ایسی ایسی باتیں بھی ہوئیں کہ بچے بھی نہیں کرتے۔ پتہ نہیں کیوں اُن کے منہ سے نکلا کہ ہم ایک پوری تہذیب کو برباد کردینگے۔ آبنائے ہرمز کے بند کرنے سے جو کہ امریکا نے بلا کیڈ کیا ہوا ہے اس کا منفی سے زیادہ مثبت فائدہ ہوگا اس لیئے کہ وہاں سے صرف امریکن نہیں گزرتے ساری دنیا کی بندرگاہ ہے بہتر یہ ہوگا کہ سیکورٹی کونسل کے تمام شریک ممالک فرانس، امریکہ، چین، برطانیہ، روس تمام اس مذاکرات میں بیٹھے۔ برطانیہ جو کہ ایران اور امریکا کے پرانے معاہدوں میں شامل رہے ہیں یہ وہ ممالک ہیں جو ہر ایک کے پاس بڑے بڑے ایٹم بم کے ذخیرے ہیں۔ یہ تمام ممالک ایٹم بم کی طاقت اور اس کی بربادیوں سے واقف ہیں تو وہ جب مل بیٹھیں گے یہ فیصلہ بھی کرینگے کہ صرف ایران کو اس کام سے روکنا ہے یا سب کو روکنا ہے۔ اگر ایران پر اس بارے میں کچھ پابندی ہونی چاہیے تو یہی پابندی اسرائیل پر بھی ہونی چاہیے۔ یہ کسی اور ملک جن کے پاس یہ بلا ہے اُس پر بھی ہونی چاہیے۔ یہ بلا جن قوتوں کے پاس ہے وہ بھی بڑی مشکل میں ہونگے۔
ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 25کرورڑ انسانوں کے ملک کے پارلیمنٹ کی جب آپ بولی لگائینگے تو اس میں تو ایک پروفسیر ایک سوشل ایکٹیوسٹ ایک پولیٹیکل ورکر اتنے پیسے نہیں دے سکتا، کون اتنے پیسے دیگا اور اسمبلیاں خریدینگے۔ اور جب یہ پیسے لینے والا کام اُن لوگوں کی جانب سے ہو جو خود کو پاکستان کے وفادار سمجھتے ہیں تو دُکھ ہوتا ہے۔ لوگ لیڈر ایجاد نہیں کرسکتے لیڈر عوام سے آتا ہے۔ اس صدی میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ نہ ہو، آئین بالادست نہ ہو، خارجی وداخلی پالیسیاں لوگوں کی مرضی ومنشاء سے نہ بنیں تو یہ ملک نہیں چل سکتا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم متفقہ نکات پر یہ فیصلہ کرلیں اور کم سے کم نکات پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو باہر سے خطرات کم ہیں یہاں اندر سے خطرات ہیں۔ جب یہاں کے سرائیکی، بلوچ، سندھی، پشتون مطمئن نہیں ہوں گے یہ ملک کیسے چلے گا۔ آج بھی دوصوبوں میں لڑائی چل رہی ہے خیبر پشتونخوا اور بلوچستان َآخر کیوں کس بات پر؟ اس کا خطرناک اثر یہ ہوا ہے کہ ساری سرحدیں ایران کے ساتھ بلوچوں اور پشتونوں کا کاروبار افغانستان کے ساتھ قبائلی علاقوں خیبر پشتونخوا اور کوئٹہ کے پشتون آتے جاتے تھے اس بات پر آپ نے پشتون علاقوں کے رزق کے دروازے بند کردیئے تو بھوک،غربت اور افلاس کے نتیجے میں لوگ بغاوت پر اُترآئیں گے کیونکہ انسان جب بھوکا ہوتا ہے تو کچھ بھی کرسکتا ہے۔ سیاسی طور پر ملک میں جو گھٹن ہے اُسے نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن اور بہت سے محسوس کررہے ہیں۔ افغانستان کے مسئلے کا حل یہ ہے۔ بسم اللہ کریں۔ شہباز شریف اب انٹرنیشنل دنیا کا کھلاڑی بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں پاکستان میں افغانستان اور ان کے ہمسایوں کی ٹیم بُلائیں، ہمسایوں میں چین، ازبکستان، تاجکستان بھی ہیں بیٹھیں آمنے سامنے بات ہو۔ اور اگر افغانستان معقول بات کرتا ہے تو اس کو سپورٹ کریں۔ اگر غلط بات کرینگے تو کہہ دینگے کہ کیا ہوگیا۔ آپ میری خودمختیاری کا خیال رکھیں میں آپ کی داخلی وخودمختیاری کا خیال رکھونگا۔ میرے خلاف لڑنے والے کو آپ جگہ نہیں دینگے آپ کے خلاف لڑنے والے کو میں جگہ نہیں دونگا یہ جو بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کو بتا دینگے۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پچھلے انتخابات میں پاکستان عوام کی سب سے بڑی اکثریت نے عمران خان کی پارٹی کو ووٹ دیا۔ جب آپ کرورڑوں عوام کی رائے کو درخور اعتناء نہیں سمجھیں گے تو کیسے چلے۔ عمران خان ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے اور پشتونخوا وطن میں جتنے بھی سیاسی لیڈر آئے کسی کو بھی پشتونخوا وطن کے عوام کی اتنی بری تعداد کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ کیوں عمران خان کا علاج ان کی فیملی کے کہنے کے مطابق ان کے اپنے فیملی ڈاکٹر اور الشفاء ہسپتال میں نہیں کیا جاتا اگر چہ آصف زرداری کا علاج سی ایم ایچ میں کرایا جارہا تھا لیکن انہوں نے باہر جانے کا کہا تھا اور وہاں لے گئے۔ اسے کیوں انا کا مسئلہ بنایا جارہا ہے؟ عمران خان اگر اتنا بُرا آدمی تھا تو پھر آپ نے کیوں وزیر اعظم بنایا؟
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لوگوں نے پاکستان کو توڑا کیا اُن کو سزا ملی؟ عوام کے نمائندے یہی کوشش کررہے ہیں کہ عوام کے نمائندوں کو دوسروں کے کہنے پر ایک دوسرے کی گریبانوں سے ہاتھ نکالنی ہوگی۔ شہباز شریف کو خود بھی پتہ ہے کہ وہ کتنا آزاد ہے سیاسی پارٹیوں کو اپنے گندے کپڑے کہیں اور نہیں دھونے چاہیے۔ ہمیں اختلافات رکھتے ہوئے اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے پاکستان دنیا بھر کی نعمتوں سے مالا مال ہے گیارہ کرورڑ عوام غربت کی لکیر کے نیچے کیوں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری یہ تجویز ہے کہ ملک میں جمہوریت ہوگی، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گا، آئین بالادست ہوگا،یہاں کے تمام اقوام کو ان کے قدرتی وسائل پر ان کے بچوں کا حق تسلیم کیا جائے، قومی زبانوں کا احترام کیا جائے پاکستان چل جائے گا۔ جمہوریت کو دنیا میں آزمایا گیا اگر چہ پرفیکٹ نظام نہیں لیکن جن لوگوں نے ایک دوسرے کو مارا تھا انہوں نے مل بیٹھ کر یہ نظام رائج کیا اب اسے چلنے دیا جائے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب لوگوں کو ضروریات تھیں صدام حسین کو ایران کے خلاف سپورٹ کیا گیا وہ دس سال تک اور آج جو جنگیں جاری ہے یہ تو اُسی کا خمیازہ ہے۔ لیکن پھر جب صدام حسین ذرا انکی مرضی ہٹا تو ان کا کیا حشر کیا۔ اور شاید صدام حسین اس لیے سٹرائیو نہیں کرسکتا۔ حافظ ال اسد اور قذافی شاید اس لیے خود کو نہ بچا سکے کہ وہاں جمہوریت نہیں تھی عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ نہیں تھی۔ایران میں اگر چہ باوجود اس کے کہ عوام میں ملاؤں کے خلاف تھوڑی سی اختلاف ہے لیکن جب وطن کی بات آئی ہے تمام ایرانی اکھٹے ہوکر بڑی ہمت سے لڑے ہیں اور ایسے لوگوں کے خلاف لڑے ہیں جو دنیا کی طاقتور قوت ہے۔ صدر ٹرمپ کہتا ہے کہ میں نے فلاں سائنسدان،آرمی چیف، روحانی پیشوا،فلاں جسٹس کو مارنا ہے یعنی اس طرح جس طرح خدانخواستہ کوئی ویٹی کن سٹی پر حملہ کررہا ہو اور کہے کہ میں نے پوپ کو مارنا ہے۔
قرآن کریم میں آیت ہے کہ آپ میں سے ایک گروپ ایسا ہونا چاہیے جو سچائی اور حق کی تبلیغ کرے اور بُرائی سے روکے۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ جن حالات میں ہمارا خطہ ہے اور یہ سب جانتے ہوئے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہوا ہے اس کے باوجود ہم ایک دوسرے کی جانب انگشت نمائی نہ کریں۔ میں نے کہا تھا کہ ایک قومی حکومت بنایا جائے اور اس قومی حکومت کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ مستقبل کے لیے کسی مخصوص دورانیے میں ایک جمہوری پاکستان کی تشکیل نو کا ایجنڈہ پیش کرے۔ عمران خان سے لوگوں کو ملنے دیا جائے، سیاسی لوگوں جس میں علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اُن افراد میں سے ہیں جنہیں ملنا چاہیے اگر کوئی میری تجویز کرتا ہے تو بھی ٹھیک۔ اگر آپ اقتدار میں ہیں تو لوگوں کی تنقید کو آپ کو برداشت کرنا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مائنس عمران خان کے فارمولے پر جس نے بھی کام کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان اُس کے خلاف آواز اٹھائیگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ضیاء الحق صاحب نے جب مارشل لاء لگایا تھا تو سیاسی پارٹیوں کو بُلایا تھا ہم بھی گئے تھے 4آدمی تھے۔ تو جب میرے بات کرنے کی باری آئی تو میں نے کہا کہ جنرل صاحب دیکھیں ہم مہمان ہیں آپ مہزبان ہیں۔ مہمان کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں مہزبان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں اگر آپ نے ہمیں اس لیے بلایا ہے کہ ہم سب یہ کہے کہ تیرا سررہے سلامت تو رہے شاد وآباد۔ ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ نہیں نہیں جو آپ کا دل چاہے کہے۔ میں نے کہا کہ آپ تین مہینے میں الیکشن نہیں کرائینگے کہا بالکل کراؤنگا۔ میں نے کہا کہ لکھ لیں پاکستان کی تاریخ میں آپ کا نام سنہرے الفاظ میں اس لیئے لکھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جب سیاسی لوگ لڑتے ہیں ان کے درمیان صلح کراتے ہیں 3مہینے میں الیکشن کراکے چلاجاتا ہے۔ آج بھی میں یہی کہتا ہوں۔لیکن پھر ایسا ہو ا انہیں تین مہینوں کو یوں کھینچنا کہ گیارہ سال ہوگئے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں سیاسی کارکن ہوں آرمی چیف، نواز شریف، شہباز شریف، اسفند یار خان سب بڑے آدمی ہوں گے لیکن پاکستان ان سب سے بڑا ہے۔ پاکستان کو ہم نے دنیا جہاں کے قانون کے مطابق چلانا ہوگا،آئین کے طے شدہ فریم میں کام کرنا ہوگا یہ پاکستان چلے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اربوں انسانوں کا ملک چین ہمارے بعد آزاد ہوا لیکن آج وہ کہاں ہیں ہم کہاں ہیں؟ ہمارے لاکھوں عوام بیرون ملک مزدوریوں میں لگے ہوئے ہیں ہم نے عوام پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔ عمران خان کو نکالے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کرورڑوں لوگ ہیں عمران خان کی پارٹی میں اگر چہ آپس میں اختلاف ہوں گے لیکن عمران خان پر سب متفق ہیں۔ عمران خان مائنس کرنے والے تاریخ میں بدنام ترین لوگ بن جائینگے۔

WhatsApp
Get Alert