بلوچستان اسمبلی میں مدارس کی بندش پر اپوزیشن کا شدید احتجاج اور ایوان سے واک آوٹ

شیخ زاید ہسپتال سے مشینری کی منتقلی پر سیکرٹری صحت طلب، وٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2026 منظور


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت 32 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے آغاز پر شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید، میر اعجاز جھکرانی اور شریف محمد حسنی کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں سیل کرنے کے معاملے پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ صوبے میں تقریبا 2600 مدارس ہیں جن میں سے 2200 رجسٹرڈ ہیں، اگر مدارس رجسٹریشن کے لیے تیار ہیں تو انہیں بند کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو سیل کیا جا رہا ہے اور علما کی توہین کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے اور اسمبلی کے سامنے درس و تدریس بھی شروع کر سکتے ہیں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے مزید کہا کہ مدارس کو تالے لگانے کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ رجسٹریشن کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی رویے پر اعتراض ہے۔ اس دوران اسپیکر عبدالخالق اچکزئی اور مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور حکومت ان کے خلاف نہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث بعض اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مدارس میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کی اطلاعات بھی ہیں، جبکہ وزیراعلی بلوچستان کی جمعیت علما اسلام کے سربراہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔اپوزیشن کے رہنماں نے مقف اختیار کیا کہ دیگر صوبوں میں مدارس کو سیل نہیں کیا جا رہا اور اگر دہشتگردی کے واقعات کا تعلق تعلیمی اداروں سے جوڑا جا رہا ہے تو جامعات کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔ اس دوران اپوزیشن نے احتجاجا واک آٹ کیا، تاہم بعد میں حکومتی یقین دہانی پر ایوان میں واپس آگئی۔اجلاس میں شیخ زاید ہسپتال سریاب سے قیمتی مشینری کی منتقلی کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے، جبکہ اسپیکر نے سیکرٹری صحت کو طلب کر لیا۔ بعض ارکان نے الزام لگایا کہ ہسپتال سے انجوگرافی مشینری منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔علاوہ ازیں ایوان میں مختلف محکموں سے متعلق وقفہ سوالات بھی لیا گیا، جبکہ کئی اہم بل پیش کیے گئے۔ بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2026 اور بلوچستان زرعی پیداواری منڈیوں کا مسودہ قانون 2025 ایوان نے منظور کر لیا، جبکہ بلوچستان کنٹرول منشیات بل 2026 متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔اجلاس میں گوادر سمیت مختلف علاقوں میں مدارس کی بندش، سریاب میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ماہیگیروں کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آئے۔ مولانا ہدایت الرحمان نے الزام لگایا کہ ٹرالر مافیا سالانہ اربوں روپے کی مچھلی غیر قانونی طور پر پکڑ رہا ہے جس سے مقامی ماہی گیر متاثر ہو رہے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے کارروائی 8 مئی تک ملتوی کردی۔

WhatsApp
Get Alert